بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

حرام کمائی والے سے ہدیہ لینا


سوال

ایک شخص نے مجھے دو ہزار روپے بطور ہدیہ دیےلیکن اس کی کمائی حرام کی ہے، تو کیا میں اس سے ہدیہ قبول کرسکتا ہوں؟

جواب

اگرکسی شخص کا مال صرف حرام آمدنی سےہو، توایسےشخص کی دعوت یاہدیہ قبول کرنا جائزنہیں، تاہم اگر حلال وحرام مال مخلوط ہواورحلال مال غالب ہو، تواس صورت میں اس سے ہدیہ وغیرہ قبول کرنے کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرہدیہ دینے والے کی ساری کمائی یاغالب کمائی حرام کی ہو،  تواس سے ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں۔

 

أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع. (الفتاوى الهندية، كتاب الكراهية، الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات، ج:5، ص:342)


فتویٰ نمبر : 6375/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں