بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے پیسوں سے قرض پیسے لینا


سوال

میرے پاس مسجد کے پیسےہوتے ہیں اکثر مجھے پیسوں کی ضرورت پڑھ جاتی ہے کیامیں ان پیسوں  سے بطور قرض پیسے لے سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مسجد کی رقم متولی کے پاس امانت ہوتی ہے، اور اس رقم میں تصرف کرنا یا اس کو بدلنا خیانت کے زمرے میں آتاہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ کے مطابق مسجد کی رقم کو بطورِ قرض لینا جائز نہیں ہے، اگر اس طرح  خود یہ پیسے استعمال کیے تو خیانت ہو گی اور واپس کرنا لازم ہوگا۔

 

وأما حكمها ‌فوجوب ‌الحفظ ‌على ‌المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني.الوديعة لا تودع ولا تعار ولا تؤاجر ولا ترهن، وإن فعل شيئا منها ضمن، كذا في البحر الرائق.(الفتاوی الهندية،كتاب الوديعة،الباب الأول في تفسير الإيداع والوديعة وركنها وشرائطها وحكمها،ج:4، ص:338)

ليس للمتولي ‌إيداع ‌مال ‌الوقف ‌والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز.(البحرالرائق شرح کنز الدقائق كتاب الوقف، تصرفات الناظر في الوقف، ج:5،ص:259)


فتویٰ نمبر : 6390/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں