بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تکبیر اولیٰ ملنے کی حد


سوال

تکبیر اولیٰ کی  حد کیا ہے؟ کیا رکوع کی تکبیر سے پہلے پہلے نماز میں شامل ہو جائیں تو تکبیر اولیٰ مل جاتی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ تکبیر اولیٰ کے بارے میں آئمہ کے اقوال یہ ہیں:(1) ثنا ء سے پہلے پہلے شریک ہوجائے ۔ (2) سورۂ فاتحہ کے نصف سے پہلے امام کے ساتھ شامل ہوجائے۔ (3)  سورۂ فاتحہ کے ختم ہونے تک شامل ہوجائے۔ (4)  پہلی رکعت کے رکوع سے پہلے شامل ہوجائے۔ اس آخری قول کو فقہاء نے صحیح کہا ہے،لہذا جو شخص  امام کے ساتھ پہلی رکعت کے رکوع سے پہلے شریک ہوجائے تو اس کو بھی تکبیر اولیٰ کا ثواب مل جائے گا۔البتہ افضل یہ ہے کہ امام کیساتھ تکبیر کہے تاکہ کامل اجر پائے۔

 

مطلب في وقت إدراك فضيلة الافتتاح ‌وتظهر ‌فائدة ‌الخلاف ‌في ‌وقت ‌إدراك ‌فضيلة ‌تكبيرة الافتتاح؛ فعنده بالمقارنة، وعندهما إذا كبر في وقت الثناء، وقيل بالشروع قبل قراءة ثلاث آيات لو كان المقتدي حاضرا، وقيل سبع لو غائبا، وقيل بإدراك الركعة الأولى، وهذا أوسع وهو الصحيح.(رد المحتار علی الدر المختار،کتاب الصلاة،باب صفة الصلاة،ج:1،ص:526)


فتویٰ نمبر : 10643/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں