بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

دانتوں میں پھنسے ہوئے ذرات کو نہ نکالنے کے باوجود غسل کرنا


سوال

 دانتوں میں اکثرکھانے کے ذرات پھنس جاتے ہیں اور آسانی سے نہیں نکلتے، کیا انہیں ذرات کو غسل میں نکالنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ دانتوں میں کھانے کےجوذرات باقی رہ جاتے ہیں، توعموماً ان ذرات کی وجہ سے پانی دانتوں میں جانے سے نہیں رُکتا بلکہ ان کے باوجود بھی پانی داتنوں کی اندرتک پہنچ جاتا ہے، لہذا ان ذرات کی وجہ سےغسل پورا ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا، تاہم اگرکسی کویہ محسوس ہوکہ پانی ان ذرات کے نیچے تک نہیں پہنچتا تواس صورت میں حتی الوسع ان ذرات کونکال کرپانی پہنچانا لازم ہوگا ۔

 

ولو كان سنه مجوفا فبقي فيه أو بين أسنانه طعام أو درن رطب في أنفه ثم غسله على الأصح. كذا في الزاهدي .والاحتياط أن يخرج الطعام عن تجويفه ويجري الماء عليه ،هكذا في فتح القدير.( الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب الثاني في الغسل، الفصل الأول في فرائض الغسل، ج:1، ص:13)

(و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى. وقيل إن صلبا منع، وهو الأصح۔۔۔ (قوله: به يفتى) صرح به في الخلاصة وقال: لأن الماء شيء لطيف يصل تحته غالبا اهـ ويرد عليه ما قدمناه آنفا ومفاده عدم الجواز إذا علم أنه لم يصل الماء تحته، قال في الحلية وهو أثبت.( الدر المختار وحاشية ابن عابدين، ‌‌كتاب الطهارة، فرض الغسل، ج:1، ص:154)


فتویٰ نمبر : 10675/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں