بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زکاۃکی رقم مصارف پر خرچ کرنا


سوال

کیا یہ لازم ہےکہ زکوٰ ۃ کی رقم مصارف میں سے ہر ایک مصرف پر خرچ کی جائے یا تمام مصارف کےبجائے ان میں سے  ایک یا چند مصارف پر خرچ کی جاسکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ زکاۃ کی رقم آٹھ مصارف میں سے کسی ایک یا چند پر خرچ کرنا شرعاً جائز ہے۔ تمام مصارف پر رقم کو تقسیم کرنا ضروری نہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ جہاں جہاں زیادہ ضرورت ہو، وہاں زکوٰۃ خرچ کی جائے۔ حنفیہ کے ہاں کسی ایک شخص کو اتنی زکاۃ دینا جس سے وہ صاحب ہو جائے ،مکروہ ہے البتہ اگر کوئی مستحق قرض دار ہو یا کثیر العیال ہو یا اس کو کئی اور سخت ضرورت درپیش ہو تو نصاب کی مقدار کےبرابر یا اس سے زیادہ دینے میں بھی کو ئی قبا حت نہیں ۔

 

‌فهذه ‌جهات ‌الزكاة ‌وللمالك أن يدفع إلى كل واحد، وله أن يقتصر على صنف واحد كذا في الهداية. وله أن يقتصر على شخص واحد كذا في فتح القدير. والدفع إلى الواحد أفضل إذا لم يكن المدفوع نصابا كذا في الزاهدي ويكره أن يدفع إلى رجل مائتي درهم فصاعدا، وإن دفعه جاز كذا في الهداية. هذا إذا لم يكن الفقير مديونا فإن كان مديونا فدفع إليه مقدار ما لو قضى به دينه لا يبقى له شيء أو يبقى دون المائتين لا بأس به، وكذا لو كان معيلا جاز أن يعطى له مقدار ما لو وزع على عياله يصيب كل واحد منهم دون المائتين كذا في فتاوى قاضي خان وندب الإغناء عن السؤال في ذلك اليوم كذا في التبيين.(الفتاوى الهندية،الباب السابع في المصارف،ج:1،ص:188)


فتویٰ نمبر : 10645/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں