بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عمرہ کی ٹکٹ قسطوں پر خریدنا


سوال

ایک شخص عمرے کی ٹکٹیں  نقد خریدتا ہے، اور لوگوں  کو قسطوں پرپرسنٹیج کے ساتھ مہنگا بیچتا ہے، تو اس شخص سے قسطوں پر عمرہ کی ٹکٹ خریدنا  کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ٹکٹ لینا، اس سروس کو مہیا کرنے والے کے ساتھ عقدِ اجارہ کرنا ہے، یعنی"مجھے فلاں جگہ تک ان ان سہولتوں کے ساتھ پہنچاؤ گے، اور میں آپ کو اتنی رقم دوں گا۔" تو گویا وہ اس کو منافع فراہم کر رہا ہے اور یہ اس کے بدلے  عوض دے رہا ہے۔ پس جس طرح یہ معاملہ نقداً جائز ہے، اسی طرح ادھار اور قسطوں پر بھی جائز ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق عمرے کی ٹکٹ خریدنا چونکہ منافع کی بیع ہے، اور منافع کو قسطوں پر خریدنے میں کوئی مضائقہ نہیں، لہٰذا عمرہ ٹکٹ کو قسطوں پر خریدنا جائز ہے۔

 

وأما معنى الإجارة فالإجارة ‌بيع ‌المنفعة لغة ولهذا سماها أهل المدينة بيعا وأرادوا به ‌بيع ‌المنفعة ولهذا سمي البدل في هذا العقد أجرة.(بدائع الصنائع،كتاب الإجارة،فصل في ركن الإجارة،ج:4،ص:174)

يجوز استئجار الدواب للركوب والحمل فإن أطلق الركوب جاز أن يركب من شاء. كذا في الهداية.

إذا تكارى من رجل إبلا مسماة بغير عينها من كوفة إلى مكة فالإجارة جائزة قال الشيخ الإمام خواهر زاده ليس تفسير المسألة أنه استأجر إبلا بغير عينها لأن استئجار إبل بغير عينها لا يجوز لجهالة المعقود عليه بل تفسيرها أن يتقبل المكاري الحمل فيقول له المستكري احملني إلى مكة بكذا فيكون المعقود عليه الحمل في ذمة المكاري، وإنه معلوم والإبل آلة الحمل وجهالة الآلة لا توجب فساد الإجارة كما في الخياط والقصار وما أشبه ذلك قال الصدر الشهيد ونحن نفتي بالجواز كما ذكر في الكتاب وتفسير ذلك ما قلنا وصار ذلك معتادا ولو لم يكن كذلك لا يجوز هكذا في المحيط.(الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،الباب السادس والعشرون في استئجار الدواب للركوب،ج:4، ص:487)


فتویٰ نمبر : 3871/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں