بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوہ کا عدت گزارنے کے لیے باپ کے گھر جانا


سوال

ایک عورت کا شوہر وفات پا چکا ہے اور اس کی کوئی اولاد نہیں ہے، اب عورت کے لیے  سسر اور دیور کے ساتھ رہ کر عدت گزارنا ضروری ہے  یا اپنے میکے جا کر بھی عدت گزارسکتی ہے ، کیونکہ شوہر کے گھر اس کے کھانے پینے اور ضرورت کی چیزیں مہیا کرنے کے لیے کوئی نہیں ہے  ؟

جواب

اگر کسی عورت کا شوہر فوت ہوجائے اور وہ حاملہ نہ ہوتو اس پرچار ماہ دس دن عدت گزارنا واجب ہے۔ عدت کے دوران عورت شوہرکےاس گھر میں رہے گی ، جس میں شوہر کی  موت سے قبل وہ دونوں رہ رہے تھے ۔تاہم اگر کسی عورت  کو وہاں رہنے میں  عذر پیش آئے،مثلا:اپنی جان یا عصمت کے لیے خطرہ ہویا گھر رہنے کے قابل نہ ہو ، تو پھر عورت کے لیے  دوسری جگہ جاکر عدت گزارنا جائز ہے،تاہم  عذر کے بغیر دوسری جگہ منتقل  نہیں ہوسکتی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر اس عورت کے لیے  شوہر  کے گھراس کا خیال رکھنے والا ، اوراس کے کھانے پینے وغیرہ چیزوں کی بندوبست کرنے والا کوئی نہ ہو اور اس کےلیے عدت گزارنا مشکل ہو، تو پھر والد ین کے گھر عدت گزارنے کی گنجائش ہے، لیکن اگر شوہر کے گھر یہ سب مہیا ہو تو تھوڑی بہت تکلیف کی وجہ سے والدین کے گھر نہیں جاسکتی۔

 

(وتعتدان)أي معتدة طلاق و موت(في بيت وجبت فيه)ولا تخرجان منه(إلا أن تخرج،أو ينهدم المنزل أو تخاف)انهدامه أو(تلف مالها أو لا تجد كراءالبيت)ونحو ذلك من الضروريات،فتخرج لأقرب موضع إليه.(الدرالمختار شرح تنوير الأبصار،كتاب الطلاق، باب العدة،ج:5،ص:225)


فتویٰ نمبر : 7236/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں