بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بھوسہ کی ذخیرہ اندوزی کرنا


سوال

گندم کے سیزن میں اگر ہم بھوسہ خرید کے گودام میں رکھ لیں ،اور کچھ مہینے بعدہم  اسے فروخت کریں، تو کیا اس حوالے سے شریعت نے کوئی  ممانعت رکھی ہے یا نہیں؟   یا پھر یہ تجارت کے معاملات  میں آتا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی چیز کی عام لوگوں کو ضرورت ہو اور اسے ذخیرہ کرنے کے نتیجے میں  وہ چیز آسانی سے نہ ملے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو پریشانی لاحق ہو یا وہ اتنی مہنگی ہوجائے کہ عام لوگوں کے لیے عرفاً ضرر (نقصان) کا باعث ہو کہ عام لوگ اس کو پھر باآسانی خرید نہ سکتے ہوں،تو ایسی صورت میں اس چیز کو ذخیرہ کرنا درست نہیں ہوگا،اور اگر  کوئی شخص  ذخیرہ اندوزی  یا عام لوگوں کو ضرر پہنچانے کی نیت کے بغیر  کوئی چیزخرید کر رکھ لیتا ہے لیکن مارکیٹ میں وہ چیزمناسب قیمت پر مل رہی ہو ،یا اگر کوئی بڑا شہر ہے کہ جس میں کوئی شخص کسی چیز  کو خرید  کر محفوظ  کرلیتا ہے اور اس کے  ذخیرہ کرنے سے لوگوں کو نقصان نہیں پہنچتا،تو یہ ممنوع ذخیرہ اندوزی میں شامل نہیں ہوگا۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر بھوسہ کی ذخیرہ اندوزی میں عام لوگوں کو نقصان  ہو رہا ہو  کہ عام لوگ اس کو پھر باآسانی خرید نہ سکتے ہوں،تو ایسی صورت میں اس کو ذخیرہ کرنا درست نہ ہوگا، لیکن  اگر نقصان کا باعث نہ ہو اورمارکیٹ میں وہ مناسب قیمت پر مل رہا ہو،تو اس کو گودام میں محفوظ کرکے کچھ مہینےبعدفروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

 

(‌و) ‌كره (‌احتكار ‌قوت ‌البشر)كتين وعنب ولوز (والبهائم) كتبن وقت (في بلد يضر بأهله) لحديث: الجالب مرزوق والمحتكر ملعون فإن لم يضر لم يكره.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، ‌‌كتاب الحظر والاباحة، ‌‌باب الاستبراء وغيره، ص:662 )

(‌قوله ‌وكره ‌احتكار ‌قوت ‌البشر) ‌الاحتكار ‌لغة: ‌احتباس ‌الشيء ‌انتظارا ‌لغلائه والاسم الحكرة بالضم والسكون كما في القاموس، وشرعا: اشتراء طعام ونحوه وحبسه إلى الغلاء أربعين يوما لقوله عليه الصلاة والسلام "من احتكر على المسلمين أربعين يوما ضربه الله بالجذام والإفلاس" وفي رواية "فقد برئ من الله وبرئ الله منه"...، وقيل شهرا وقيل أكثر وهذا التقدير للمعاقبة في الدنيا بنحو البيع وللتعزير لا للإثم لحصوله وإن قلت المدة وتفاوته بين تربصه لعزته أو للقحط والعياذ بالله تعالى در منتقى مزيدا، والتقييد بقوت البشر قول أبي حنيفة ومحمد وعليه الفتوى كذا في الكافي، وعن أبي يوسف كل ما أضر بالعامة حبسه، فهو احتكار وعن محمد الاحتكار في الثياب ابن كمال.

(قوله كتين وعنب ولوز) أي مما يقوم به بدنهم من الرزق ولو دخنا لا عسلا وسمنا در منتقى (قوله وقت) بالقاف والتاء المثناة من فوق الفصفصة بكسر الفاءين وهي الرطبة من علف الدواب اهـ ح وفي المغرب: القت اليابس من الإسفست اهـ ومثله في القاموس وقال في الفصفصة بالكسر هو نبات فارسيته إسفست تأمل (قوله في بلد) أو ما في حكمه كالرستاق والقرية قهستاني (قوله يضر بأهله) بأن كان البلد صغيرا هداية.( رد المحتار، ‌‌كتاب الحظر والاباحة، فصل في البيع، ج:6، ص:398 )


فتویٰ نمبر : 6373/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں