بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
دکان کے ماہانہ کرایہ کےعلاوہ ایڈوانس رقم لینا
سوال
ہمار ا پشاور شہر میں دو دکانیں ہیں جن کوہم مارکیٹ ریٹ کے مطابق کرایہ پردے چکے ہیں اورضمانت میں ایڈوانس کے طور پر ہر دکان کے کرایہ دارسے پندرہ لاکھ روپے لے لیتے ہیں ،معاہدے کے اختتام پرجب کرایہ دار ہم سے یہ پیسے مانگتے ہیں تو ہم فوری طور پر اس کو اس کی ایڈوانس رقم حوالہ کردیتے ہیں سوائے اس کے کہ اس پرکوئی کرایہ باقی ہو یا کوئی بجلی کا بل،اس کے علاوہ اس سے کسی طرح کی کٹوتی نہیں کی جاتی،کیا ہمارے لیے شرعاً ایڈاونس کی یہ رقم لیناجائز ہے؟ کیا ہمارے لیے ان پیسوں کا استعمال جائز ہے؟
جواب
واضح رہے کہ اجارہ میں ایسی شرائط لگانا جن سے عاقدین میں کسی ایک کےلیے نفع ہویا اس سے نزاع پیدا ہونے کا قوی امکان ہوتو وہ اجارہ کو فاسد کردیتی ہے لیکن اگر کوئی شرط عرف کا درجہ اختیار کرے تو پھر وہ اجارہ کی صحت سے مانع نہیں۔
صورت مسؤلہ کے مطابق مالک دکان کےلیے کرایہ دارسے کرایہ کے علاوہ ایڈوانس رقم بطورضمانت لیناچونکہ عرف میں رائج ہے اس لیے اس کی گنجائش ہےنیزایڈوانس جو رقم بطور ضمانت لی جاتی ہے اس کو علماء نے قرض کے زمرے میں داخل کیا ہے لہذا مالک دکان کے لیے ایڈوانس رقم کوصرف کرناجائز ہے۔تاہم ایڈوانس کی وجہ سےکرایہ میں مارکیٹ ریٹ سے کمی کرنا شرعاً ناجائزہے۔
مطلب كل قرض جر نفعا حرام: قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا .(ردالمحتار على الدر المختار،ج:5،ص:166)
إن العرف والعادة يكون حجة إذا لم يكن مخالفا لنص أو شرط لأحد المتعاقدين.(درر الحكام في شرح مجلة الأحكام ،ج:1،ص:47)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں