بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
امام کا دوران نماز موبائل سے فتح لینا
سوال
ایک امام دوران جماعت قرات کو بھول گئے تواس نے موبائل نکال کر کسی قاری کی تلاوت کی ریکارڈنگ لگا کر قرات سن لی اور پھر آگے قراءت کو جاری رکھا ،امام کا اس طرح سے لقمہ لینا جائزہے یا نہیں ؟اورامام اور مقتدیوں کی نماز کا کیا حکم ہے ان پر نماز کا اعادہ ہے یا نہیں؟
جواب
فقہاء کرام نے امام کے لیےمقتدی کےعلاوہ کسی دوسرے سے فتح لینے کو مفسد صلاۃ قراردیا ہے۔اسی طرح کسی نمازی کا دوران نمازایسا عمل انجام دینا جس کی وجہ سے دیکھنے والا اس کونمازی نہ سمجھے تویہ عمل کثیرکہلاتاہے جس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطا بق اگرواقعی امام نے دوران نماز موبائل کھول کرکسی قاری کی ریکارڈنگ لگا کراس سے فتح لی ہو تواس سے امام کی نماز فاسدہوئی ہے ۔ دوران نماز موبائل نکال کر کسی قاری کی تلاوت کی ریکارڈنگ لگاکر قرات سننا عمل کثیر ہے جس سے نماز فاسد ہوتی ہے لہذا امام اور مقتدیوں پرا س نماز کا اعادہ لازم ہے ۔
أخذ المصلي غير الإمام بفتح من فتح عليه مفسد أيضا كما في البحر عن الخلاصة. أو أخذ الإمام بفتح من ليس في صلاته كما فيه عن القنية....ولو سمعه المؤتم ممن ليس في الصلاة ففتح به على إمامه يجب أن تبطل صلاة الكل لأن التلقين من خارج.( رد المحتار على الدر الدرالمختار،ج:1،ص:622)
و إن فتح غير المصلي فأخذ بفتحه تفسد.كذا في منية المصلي.(الفتاوى الهندية،ج:1ص:99)
وهذا مبني على أحد تفسيري العمل الكثير اهـ وهو ما لو رآه راء من بعيد لا يشك أنه ليس في الصلاة.(رد المحتارعلى الدر المختار،ج:1،ص:605)
لأن المفسد إنما هو العمل الكثير وهوما يظن أن فاعله ليس في الصلاة.(رد المحتار على الدرالمختار،ج:1،ص:625)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں