بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

قانونی طور پرجنس تبدیل کرنے والے کا حصہ میراث


سوال

ایک شخص نے بالغ ہونے کے بعد قانونی طور پر اپنی جنس مرد سے عورت میں تبدیل کرالی ہے۔ اب اس کا باپ وفات پاچکا ہےتقسیم میراث میں اسے مرد سمجھاجائے گا یاعورت ؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے میت کی تقسیم میراث میں جو ورثاء پیدائشی مذکرہوتے ہیں توان کو مرد کے حصوں کے بقدرحصے ملتے ہیں اورجو پیدائشی مونث ہوتے ہیں توان کوعورتوں کے حصوں کے بقدر حصے ملتے ہیں، اگرکوئی وارث قانونی طور پراپنی جنس تبدیل کرے تواس تبدیلی کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ اس کی پیدائشی حالت کے موافق اس کو میراث میں حصہ دیا جائے گا۔

 

واعلم أن الله تعالى خلق بني آدم ذكورا وإناثا كما قال {وبث منهما رجالا كثيرا ونساء} [النساء: 1]- وقال - {يهب لمن يشاء إناثا ويهب لمن يشاء الذكور} [الشورى: 49]- وقد بين حكم كل واحد منهما ولم يبين حكم من هو ذكر وأنثى، فدل على أنه لا يجتمع الوصفان في شخص واحد، وكيف وبينهما مضادة.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الخنثى،ج:6،ص:727)


فتویٰ نمبر : 6372/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں