بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بھائیوں کا مشترکہ زمین میں ایک دوسرے کو عشر دینا


سوال

دو بھائیوں کے درمیان ایک مشترکہ زرعی زمین ہے جس سے حاصل ہونے والی فصل فروخت کرکے دسواں حصہ بطورِعشر ادا کیا جاتاہے۔ ان کے پاس اس زمین کے علاوہ کوئی اورمال موجودنہیں جس سے وہ صاحبِ نصاب بن سکیں، بلکہ غربت وافلاس کی زندگی گزارتے ہیں، ایسی صورت میں اگر ان بھائیوں میں سے ایک اپنے حصے کے عشر کی بقدر رقم کسی دوسرے مستحق بھائی کو ادا کرے، اور دوسرا پہلے کو، تو کیااس طرح عشر کی ادائیگی درست ہوجائے گی یا نہیں؟ نیز مستحق بھائیوں کے لیے اس عشرکو لینا کیسا ہے؟

جواب

قرآن وحدیث کی روشنی میں اجنبی مستحقین کی بجائے رشتہ دار کےساتھ مالی تعاون کرنا(زکوٰۃ، عشر، صدقہ وغیرہ دینا) زیادہ بہتر ہے، کیونکہ اس سے صلہ رحمی کو تقویت ملتی ہےاور شریعت اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، نیز مشترکہ زمین کی فصل  میں تقسیم سے پہلے بھی کل پیداوار سے عشر نکالا جاسکتا ہے اور تقسیم کےبعد بھی، البتہ تقسیم کے بعد ہر شریک اپنے حصے کےمطابق عشر ادا کرےگا۔

صورتِ مسئولہ میں اگر دونوں بھائی شرعی طور پرزکوٰۃ کے مستحقین ہوں، تو فصل کی تقسیم کے بعدہرایک اپنے حصے سے بقدر عشر اپنے مستحق بھائی کودے سکتا ہے، اور اس سے ان کا عشر ادا ہوجائےگا۔ بشرطیکہ ایک دوسرے کو عشر دینامعاوضہ کے طور پر دونوں کے مابین طے شدہ نہ ہو۔ کیونکہ اگر معاوضہ کی شکل میں ایک دوسرے کو دیں گے تو کسی کا بھی عشر ادا نہ ہوگا۔

 

لما في البدائع من أن المزارعة جائزة عندهما ‌والعشر ‌يجب ‌في ‌الخارج والخارج بينهما فيجب العشر عليهما. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكاة، باب العشر، فروع في زكاة العشر، ج:2، ص:335)

والأفضل إخوته وأخواته ثم أولادهم ‌ثم ‌أعمامه ‌وعماته ‌ثم ‌أخواله ‌وخالاته ثم ذوو أرحامه ثم جيرانه ثم أهل سكته ثم أهل بلده كما في النظم. (رد المحتار على الدر المختار، کتاب الزکاۃ، باب مصرف الزکاۃ والعشر، ج:2، ص:354)

وقيد بالولاد لجوازه لبقية الأقارب كالإخوة والأعمام والأخوال الفقراء بل هم أولى؛ لأنه صلة وصدقة. (رد المحتار على الدر المختار، کتاب الزکاۃ، باب مصرف الزکاۃ والعشر، ج:2، ص:346)


فتویٰ نمبر : 10632/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں