بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

NGO كوزكوة دينا


سوال

ایک شخص نے زکاۃ ایک غیرسرکاری ادارے "(NGO" کو دی جو مختلف کاموں جیسے پینے کا پانی، ہاسپٹل، اورتعلیم پر خرچ کرتا ہے، مگر مستحقین کا تعین خود کرتا ہے۔کیا ایسا ادارہ بغیر فردی تملیک کے زکاۃ وصول کرسکتا ہے؟

جواب

واضح رہے  کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے شرط یہ ہے کہ کسی مستحق کو تملیک کی جائے نیز زکوۃ کو مصرف تک پہنچانے کےلیےشخص کی طرح کسی ادارہ کےسربراہ  یا نمائندہ کو بھی وکیل بنانے میں  کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وه سربراہ یا نمائندہ زکوۃ کی رقم کو مستحق تک پہنچائے۔

صورت مسٔولہ میں جو رفاہی ادارے  معتمد لوگوں کی نگرانی میں چلتے ہیں ، اور اہل علم سے پوچھ کر مصارف تک  زکوةپہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں،تو ان کو زکوۃ  یا دیگر صدقات واجبہ دینا جائز ہے۔لیکن جن رفاہی اداروں  کے ذمہ  داران کااعتماد پر  پورا اترنا مشکل ہوں  یا زکوۃ  کو مصارف تک  پہنچانے  کےشرعی تقاضوں پر  عمل غیر یقینی  ہو تو ایسے اداروں کو زکوۃ یا صدقات واجبہ  دینے سے احتراز کرنا  چاہئے  تاکہ کہیں یہ اہم فریضہ بے احتیاطی کی وجہ سے ذمے پر باقی نہ رہ جائے۔نیز یاد رہے کہ زکوۃ کی رقم براہ راست  پینے کے پانی ،یا ہاسٹل ،اور تعلیم میں خرچ کرنا جائز نہیں البتہ اگر مستحقین   کو  زكوة كا مالک بنا کر پھر ان کی طرف سے ان سہولیات کے انتظامات کئے جائیں تو شرعا اس کی گنجا ئش ہے۔

 

قال اللہ تعالی:﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِين﴾(التوبة:59)

ويشترط أن يكون الصرف تمليكا لاإباحة.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،كتاب الزكوة،باب الصرف ، ج:3، ص: 291)

وإذا دفعها إليه وهو شاك ولم يتحر أو تحرى ولم يظهر له أنه مصرف أو غلب على ظنه أنه ليس بمصرف فهو على الفساد.(الفتاوی الهندية، كتاب الزكاة،الباب السابع في المصارف ج: 1، ص : 190)


فتویٰ نمبر : 10640/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں