بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

وزٹ ويزه پر بيرون ممالك جا كر وہاں كام كرنا


سوال

اگر کوئی دوست کسی کو وزٹ ویزہ پرباہر ملک  بلائے، لیکن  اصل مقصد وہاں بلانے کا مستقل کام کرنا ہے تو کیا وزٹ ویزہ پر جا کر وہاں مستقل کام کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے اگر کوئی ملک مفاد عا مہ کی خاطر ایسا قانون بنائے جو شریعت سے متصادم نہ ہو  تو اس کی پاسداری کرنا ضروری ہے اور اس کي خلاف ورزی کرنا شرعا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص وزٹ ویزہ پر بیرون ملک چلاجائے تو وہاں چونکہ مزدوری کرنے کی قانونا اجازت نہیں ہوتی،لہذا وہاں کی قانون شکنی کرتے ہوئے مزدوري كرنا شرعا اور قانونا درست نہیں کیونکہ یہ دھوکہ دہی  اور وعدہ کی   خلاف ورزی ہے ۔

 

قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا﴾ [الإسراء: 34] 

‌وأما ‌طاعة ‌السلطان فتجب فيما كان لله فيه طاعة، ولا تجب فيما كان لله فيه معصية(الجامع لأحكام القرآن للقرطبي،النساء آية59،ج:5، ص259)


فتویٰ نمبر : 6374/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں