بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سبزی منڈی ميں دلال کا كميشن لينے كا حكم


سوال

سبزی منڈی میں دلال ہوتے ہیں جن کو (کمیشن ایجنٹ) کہا جاتا ہے اگر کوئی زمیندار سبزی وغیرہ بیچنے منڈی میں آتا ہے تو مثلاً ٹماٹر کی تھیلی 1100 میں فروخت کرنا چاہتا ہے ، اور وہ دلال یعنی کمیشن ایجنٹ بائع اور مشتری کے درمیان واسطہ بن کر دونوں کے درمیان باؤ تاؤ کرتا ہے اور پھر زمیندار کو 900 کا بل بنا کر دیتا ہے (200) کمیشن کاٹ لیتا ہے کیا یہ (کمیشن)  حلال ہےیا حرام؟

جواب

واضح رہے کہ   دلال یاکمیشن ایجنٹ کے لئے کمیشن لینے میں شرعا کوئی قباحت نہیں بشرطیکہ وه دھوکہ اور جھوٹ سے اجتناب کرنے والا ہو ،اور بائع یامشتری کی رضا مندی سے اس کے لئے اجرت متعین کی گئی ہو تو اس کے لئے اجرت لینے کی گنجائش ہے۔

صورت مسئولہ میں سبزی منڈی میں موجود کمیشن ایجنٹ یادلال چونکہ زمیندار اورخریدار کے درمیان رابطہ کا کام کرتا ہے اس لئے اس کے لئے کمیشن لینا جائز ہے بشرطیکہ وہ کمیشن واضح طور پر متعین ہو تاکہ اس میں نزاع کا اندیشہ نہ رہے۔

 

وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، ‌فقال: ‌أرجو ‌أنه ‌لا ‌بأس ‌به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه(رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج: 9، ص: 87)


فتویٰ نمبر : 3868/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں