بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اكيلے نماز پڑھنے کے بعد جماعت میں شریک ہونا


سوال

میں مسلک اہلسنت والجماعت کا ماننے والا ہوں میں جس جگہ کام کرتا ہوں وہاں پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے تو پاس میں جو مسجد ہے وہ دوسرے   مسلك والوں کی ہے تو میں اس مسجد میں جاکر پہلے سنت ادا کرتا ہوں اور پھر فرض ادا کرتا ہوں  اور اسکے بعد جب جماعت کھڑی ہوتی ہے تو جماعت کے ساتھ مل کر صرف نماز کی نقل کرتا ہوں ان کے ساتھ جماعت میں  نماز نہیں پڑھتا ، تو میرا اس طریقے سے نماز ادا کرنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ صحیح العقیدہ اور با عمل عالم وقاری کے پیچھے نماز پڑھنا افضل ہےلیکن اگر کسی جگہ پر دوسرے فرقے والے امام کی اقتدا میں نماز پڑھنے کا موقع آجائےتواگر امام ایسا ہو کہ نماز میں دوسرے مسلک کی واجبات وغیرہ کی رعایت رکھتا ہوتو ایسے امام کی اقتدا میں کوئی حرج نہیں   ۔

صورت مسؤلہ میں سائل کو چاہیے کہ حتی الوسع اپنے مسلک کےمطابق صحیح العقیدہ امام کے پیچھے نماز پڑھے لیکن اگر کبھی کبھار   اپنے مسلک کے علاوہ دوسرے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی نوبت آئے توصرف مسلکی اختلاف کی وجہ سے جماعت ترک کرنا مناسب نہیں،بلکہ اگردوسرے مسلک کا  امام باشرع ہواور واجبات وغیرہ کا خیال رکھے تو اس کےپیچھے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے ۔

 

‌قال ‌المرغيناني تجوز الصلاة خلف صاحب هوى وبدعة ولا تجوز خلف الرافضي والجهمي والقدري والمشبهة ومن يقول بخلق القرآن وحاصله إن كان هوى لا يكفر به صاحبه تجوز الصلاة خلفه مع الكراهة وإلا فلا.۔۔۔ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي.(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصلوۃ،الباب الخامس في الإمامة، الفصل الثالث،ج :1،ص :84)


فتویٰ نمبر : 10639/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں