بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کرنا


سوال

میرا والد صاحب فوت ہوا ہے اس کے ذمے دو مہینوں کے روزوں اور ایک سال کی نمازوں کا فدیہ ہے، اگرچہ روزوں کو اسی بیماری کی حالت میں تکلیف کے ساتھ رکھ سکتا تھا، اور نمازوں کو بھی ادا کرسکتا تھا لیکن نہ روزے رکھے اور نہ نمازیں ادا کیں، اور میں ابھی اس کا فدیہ ادا کرنا چاہتا ہوں، تو دو مہینے روزے اور ایک سال کی نمازوں کا فدیہ کتنا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی آدمی کا انتقال ہوجائے اور اس کے ذمہ فوت شدہ نمازوں اور روزوں کی ادائیگی باقی ہو، تو اگر اس نے اپنی قضا نمازوں اور روزوں  کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو تو ورثاء پر لازم ہے کہ اس کے ترکہ کے ایک تہائی حصہ میں سے فدیہ ادا کریں۔ ایک نماز کا فدیہ (پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت) ہے، اتنا ہی فدیہ ایک روزے کا بھی ہے۔ اگر اس نے وصیت نہ کی ہو، تو ورثاء پر فدیہ ادا کرنا لازم نہیں، البتہ اگر ورثاء اپنی طرف سے میت کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ دینا چاہیں، تو دے سکتے ہیں یہ ورثا کی طرف سے تبرع اور احسان ہوگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر کسی شخص سے دو مہینے روزے اور ایک سال کی نمازیں ایسی حالت میں فوت ہوئی ہوں کہ وہ بیمار تھا، اور روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے پر قادر تھا، لیکن نہ روزے رکھے اور نہ نمازیں ادا کیں، تو اگر اس نے فدیہ دینے کی وصیت کی تھی، تو پھر ورثا پر میت کے ترکہ کے ایک تہائی (ثلث) حصے سے فدیہ دینا لازم ہوگا۔ایک نماز کا فدیہ (پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت) ہے اتنا ہی ایک روزے کا فدیہ بھی ہے۔ اور اگر اس نے وصیت نہ کی ہو تو ورثا پر فدیہ دینا لازم نہیں، البتہ اگر ورثا تبرعاً اور احساناً فدیہ دینا چاہیں تو  دے سکتے ہیں۔

 

(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة. (قوله: وعليه صلوات فائتة إلخ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بها، وإلا فلا يلزمه وإن قلت، بأن كانت دون ست صلوات، لقوله عليه الصلاة والسلام: «فإن لم يستطع فالله أحق بقبول العذر منه». وكذا حكم الصوم في رمضان إن أفطر فيه المسافر والمريض وماتا قبل الإقامة والصحة، وتمامه في الإمداد. مطلب في إسقاط الصلاة عن الميت. (قوله: يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك؛ لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك، إمداد. ثم اعلم أنه إذا أوصى بفدية الصوم يحكم بالجواز قطعاً؛ لأنه منصوص عليه. وأما إذا لم يوص فتطوع بها الوارث فقد قال محمد في الزيادات: إنه يجزيه إن شاء الله تعالى، فعلق الإجزاء بالمشيئة لعدم النص، وكذا علقه بالمشيئة فيما إذا أوصى بفدية الصلاة؛ لأنهم ألحقوها بالصوم احتياطاً؛ لاحتمال كون النص فيه معلولاً بالعجز، فتشمل العلة الصلاة وإن لم يكن معلولاً تكون الفدية براً مبتدأً يصلح ماحياً للسيئات، فكان فيها شبهة، كما إذا لم يوص بفدية الصوم، فلذا جزم محمد بالأول ولم يجزم بالأخيرين، فعلم أنه إذا لم يوص بفدية الصلاة فالشبهة أقوى".(ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج: 2، ص: 72)


فتویٰ نمبر : 10673/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں