بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

نیل پالش لگے ہونے کی صورت میں وضو اور نماز


سوال

میں نے  ماہواری میں نیل پالش لگائی تھی ، اب میں پاک ہو چکی ہوں، اور ابھی میرے پاس نیل ریمور نہیں ہے اور میری نمازیں قضا ہورہی ہیں تو کیا  مجبوری کی وجہ سے  میں نیل پالش کے ہوتے ہوئےوضوکرکے نماز پڑھ سکتی ہوں،کیا  میری نماز ہوجائے گی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر نیل پالش ایسی ہو جس   کی تہہ ناخن پر جمنے کی وجہ سے  پانی اس کے نیچے تک نہ پہنچتاہو،تو وضو یا غسل سے پہلے اس کو صاف کرنا ضروری ہے، کیونکہ اعضاءِ مغسولہ میں سے اگر سوئی کے  برابر بھی کسی جگہ تک پانی نہ پہنچے تو وضو یاغسل مکمل نہیں ہوتا،اور اس طرح پڑھی گئی نمازبھی ادانہیں  ہوتی  ،البتہ اگر کوئی نیل پالش ایسی ہو جس کا صرف رنگ مہندی کی طرح ناخن پر آتا ہو اور اس کی تہہ ناخن پر نہ جمنے کی وجہ سے پانی اس کے نیچے تک پہنچتا ہو تو ایسی نیل پالش لگے ہونے کی حالت میں  وضو اور غسل ہوجائے گا،اور اس پر پڑھی گئی نماز بھی درست ہوگی۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں   اگر نیل پالش تہہ والی تھی  تو فوری طور پر اس کو ہٹانے کی پوری کوشش کریں، اگر نیل ریمور نہ ہونے کی وجہ سے  ہٹ نہ  رہی ہو تو کسی اور چیز سے ہٹانے کی کوشش کی جائے، مکمل کوشش کے بعد بھی اگر وہ نہ ہٹے، اوراس کا کچھ اثر رہ جائے اور مزید ہٹانے کی صورت میں نقصان پہنچے کا اندیشہ ہو ،تو جس قدر ہوسکے  ہٹانے کے بعد وضو کرکے نماز پڑھی  جائے ۔

 

إن بقي من موضع الوضوء قدر رأس إبرة أو لزق بأصل ظفره طين يابس أو رطب لم يجز وإن تلطخ يده بخمير أو حناء جاز، وسئل الدبوسي عمن عجن فأصاب يده عجين فيبس وتوضأ قال: يجزيه إذا كان قليلا. كذا في الزاهدي وما تحت الأظافير من أعضاء الوضوء حتى لو كان فيه عجين يجب إيصال الماء إلى ما تحته...أن الظفر إذا كان طويلا بحيث يستر رأس الأنملة يجب إيصال الماء إلى ما تحته وإن كان قصيرا لا يجب. كذا في المحيط...وفي الجامع الصغير سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي يبقى في أظفاره الدرن أو الذي يعمل عمل الطين أو المرأة التي صبغت أصبعها بالحناء، أو الصرام، أو الصباغ قال كل ذلك سواء يجزيهم وضوءهم إذ لا يستطاع الامتناع عنه إلا بحرج والفتوى على الجواز من غير فصل بين المدني والقروي. كذا في الذخيرة وكذا الخباز إذا كان وافر الأظفار. كذا في الزاهدي ناقلا عن الجامع الأصغر، والخضاب إذا تجسد ويبس يمنع تمام الوضوء والغسل.( الفتاوى الهندية، کتاب الطهارة، الباب الأول في الوضوء، الفصل الأول في فرائض الوضوء، ج:1، ص:4 )

أن التضييق في الشرع مدفوع مرفوع فلا تكليف الا بحسب الوسع اي الطاقة والقدرة الممكنة وتندرج تحت قاعدة المشقة تجلب التيسير.( القواعد الفقهية، رقم القاعدة:25، مفاد القاعدة، ج:5، ص:107 )


فتویٰ نمبر : 10633/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں