بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

کوئی چیز خریدنے کے لیے دیے گئے پیسوں کو اپنی ضرورت میں خرچ کرنے کے بعد اس کا ضامن بنانا


سوال

میں نے ایک دوست کو پیسے دیے تھے کہ میرے لیے  بازار سے سولر کے شیشے خریدو، اس نے میرے پیسے اپنے گھر کے اخراجات  میں لگا دئیے، تو اب میں دوست سے پیسوں کا مطالبہ کروں یا سولر کا؟

جواب

واضح رہے کہ وکالت ایک جائز اور مشروع عقد ہے ، جس کا مطلب ہے کسی شخص کا دوسرے کو کسی جائز کام میں اپنا نائب بنانا۔وکالت امانت کے حکم میں ہوتی ہے،یعنی وکیل مؤکل کے مال میں امانت دار ہوتا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ مؤکل کے حکم کے مطابق ہی تصرف کرے  ،اگر وکیل نے مؤکل کے حکم کی خلاف ورزی کی یا اس مال کو اپنی ضروریات میں استعمال کیا ،تو یہ وکیل کی جانب سے تعدی شمار ہوگی ،اور  وکیل کی جانب سے تعدی کی صورت میں وکیل   مؤکل کی دی گئی رقم کو واپس کرنے کا ضامن  ہوتا ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی اس شخص نے سائل کے دیے ہوئے پیسوں کو اپنے گھر کے اخراجات میں خرچ کیا ،تو اس  کی تعدی کی وجہ سے مؤکل کی رقم کو واپس کرنے کا ضامن ہے اور مؤکل(سائل) اس سے  رقم ہی  کا مطالبہ کرے گا ۔

 

(ومنها) : ‌أن ‌المقبوض ‌في ‌يد ‌الوكيل بجهة التوكيل بالبيع والشراء وقبض الدين والعين وقضاء الدين - أمانة بمنزلة الوديعة، لأن يده يد نيابة عن الموكل بمنزلة يد المودع، فيضمن بما يضمن في الودائع، ويبرأ بما يبرأ فيها، ويكون القول قوله في دفع الضمان عن نفسه.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب الوكالة،فصل في الوكيلان...، ج:6،ص:33)

كذلك إذا تلف ‌المال ‌الذي ‌قبضه ‌الوكيل في يده أو في يد أمينه بلا تعد ولا تقصير أو طرأ على قيمته نقصان فلا يلزم الضمان. انظر المادة (777) أما إذا تلف بالتعدي أو التقصير فيكون ضامنا. حتى أنه إذا تلف بعد أن امتنع الوكيل عن إعطائه للموكل بطلبه إياه منه يضمن. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام،الكتاب الحادي عشر الوكالة،الباب الثالث، المادة:1463،ج:3، ص:561)

وذكر الشارح أنه إذا أنقد من مال الموكل ‌فيما ‌اشتراه ‌لنفسه يجب عليه الضمان اهـ. ... وهو ظاهر في أن قضاء الدين بمال الغير صحيح موجب لبراءة الدافع موجب للضمان وقد ذكر الشارح في بيع الفضولي أن من قضى دينه بمال الغير صار مستقرضا في ضمن القضاء فيضمن من مثله إن كان مثليا وقيمته إن كان قيميا اهـ .(البحر الرائق،كتاب الوكالة ،باب الوكالة بالبيع والشراء،ج: 7، ص: 160)


فتویٰ نمبر : 3871/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں