بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیر آباد مدرسہ کی زمین کا استبدال


سوال

ہمیں دو کنال وقف زمین مدرسہ کے لیے ملی مدرسہ کی جزوی تعمیر کے بعد کچھ عرصہ اس میں تعلیم بھی جاری رہی لیکن بعد میں طلباء کے داخلے نہ ہونے اور مالی مسائل کی وجہ سے مدرسہ میں تعلیمی سرگرمیاں موقوف کرنی پڑيں اور مدرسہ آبادی سے دور ہے اور آس پاس آبادی کی کوئی خاص صورت نظر نہیں آتی اس وجہ سے مدرسہ کو عارضی طور پر شہر منتقل كيااور اب اس وقف مدرسہ کو دوبارہ شروع کرنا ممکن نظر نہیں آرہا ،آبادی نہ ہونے کی وجہ سے مدرسہ کے منتظمین کا ارادہےکہ اس وقف مدرسہ کو بیچ کر یا بدل میں دے کر شہر کے اندر مدرسہ کے لیے جگہ لے لی جائے اور مدرسہ کے واقفین بھی اس پر راضی ہیں تو کیا اس طرح کرنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ وقف تام ہونے کے بعد وقف شدہ زمین سے جب تک فائدہ اٹھانا ممکن ہوتو کسی دوسری زمین سےاس کا استبدال جائز نہیں اور وقف تام ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ موقوفہ چیز جس مقصد کے لیے وقف کی گئی ہو، اس میں کم ازکم ایک مرتبہ استعمال ہوجائے، چنانچہ مدرسہ کے لیے وقف کی گئی زمین کاوقف اس وقت تام متصور ہوگا، جب اس میں تعلیمی سلسلہ شروع ہوجائے۔

صورت مسئولہ میں جس زمین کو مدرسے کے لیے وقف کیا گیا ہے اور وہاں ایک مرتبہ تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوکرپھر منقطع ہوچکی ہیں، تواب اگرواقف نے وقف کے وقت زمین کے تبادلےکی کوئی شرط نہیں رکھی تھی، توجب تک اس جگہ سے تعلیمی مصرف میں کچھ نہ کچھ فائدہ حاصل کرنا ممکن ہو، تو شرعاً اس موقوفہ زمین کوفروخت کرنا یا کسی دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں، البتہ اگرواقف نے وقف کرتے وقت زمین کے تبادلے کی شرط رکھی تھی، تواس کی اجازت سےزمین کو فروخت کرنا یا کسی دوسری جگہ منتقل کرنا جائز ہے۔

 

والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. ‌والثالث: ‌أن ‌لا ‌يشرطه ‌أيضا ‌ولكن ‌فيه ‌نفع ‌في ‌الجملة ‌وبدله ‌خير ‌منه ‌ريعا ‌ونفعا، ‌وهذا ‌لا ‌يجوز ‌استبداله ‌على ‌الأصح ‌المختار. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الوقف، ج:4، ص:384)

(قوله: بمنع استبداله) أي استبدال العامر إذا قل ريعه ولم يخرج عن الانتفاع بالكلية وهو الصورة الرابعة بقرينة قوله تبعا لترجيح صدر الشريعة فإن الذي رجحه هو هذه الصورة. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الوقف، ج:4، ص:388)


فتویٰ نمبر : 6376/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں