بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

دماغی بیماری کی صورت میں منگنی توڑنا


سوال

ایک بندے نے اپنے لئے رشتہ کیا ہے اورمنگنی بھی کیا ہے ابھی وہ لڑکی بیمار ہے کہ اس کی دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے ابھی وہ لڑکا نکاح نہیں کرنا چاہتا ،کیا وہ اس منگنی کوتوڑ سکتا ہے یانہیں ؟

جواب

واضح رہےکہ منگنی نکاح کا وعدہ ہوتا ہے، جس کو پورا کرنا دیانۃ ً ضروری ہوتا ہے،البتہ اگر کوئی معقول عذر ہو تو مناسب طریقے سے منگنی توڑی جا سکتی ہے۔

لہذا صورت مسؤلہ میں اگر واقعی لڑکی کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہوتولڑکےکومناسب طریقےسے منگنی توڑنے کی گنجائش ہے۔

 

وعن زيد بن أرقم - رضي الله عنه - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: " «إذا وعد الرجل أخاه ومن نيته أن يفي له، فلم يف ولم يجئ للميعاد، فلا إثم عليه» " رواه أبو داود، والترمذي. «عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: إذا وعد الرجل أخاه ومن نيته أن يفي» ) : بفتح فكسر وأصله أن يوفي (له) أي: للرجل (فلم يف) أي: بعذر (ولم يجئ للميعاد) أي: لمانع (فلا إثم عليه) (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح،كتاب الآداب،باب الوعد،ج:7،ص:3059،رقم الحديث:4881)


فتویٰ نمبر : 7244/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں