بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

طواف میں حجر اسود کے استلام کا طریقہ


سوال

طواف میں اگر حجر اسود سے دور ہوں، اور حجر اسود کو ہاتھ اور دوسری چیز نہ پہنچ سکتے ہو، تو استلام کیسے کریں گے اور اشارے کے بعد ہاتھ کو کیسے چومیں گے اس کے بارے میں بتادیں؟

جواب

ہاتھ کے اشارے سے حجر اسود کے استلام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ حجر اسود کی جانب رخ کرکے اپنے ہاتھوں کو  چہرے کے آگے بڑھا کر اس طرح اشارہ کرے کہ ہتھیلی کی پشت چہرے کی طرف ہو اور ہتھیلی کا اندرونی حصہ حجر اسود کی طرف ہو اور تکبیر و تہلیل پڑھ کر، اللہ تعالی کی حمد کرے اور  نبی کریم ﷺ پر درود بھیجے، پھر اپنی ہتھیلیوں کو بوسہ دے دے(یعنی چومے) بغیر آواز کے اور اس طرح ہر چکر میں جب حجراسود کو پہنچے تو استلام کرے۔

 

"فاستقبل الحجر مکبرًا مهللًا رافعًا یدیه کالصلاة واستلمه بکفیه وقبّله بلا صوت وهل یسجد علیه؟ قیل: نعم بلا ایذاء؛ لأنه سنة وترك الایذاء واجب فإن لم یقدر یضعهما ثم یقبلهما أو إحداهما وإلا یمکنه ذلك یمسّ بالحجر شیئًا في یده ولو عصا ثم قبله أي الشيء وإن عجز عنهما أي الاستلام والإمساس استقبله مشیرًا إلیه بباطن کفیه۔۔۔۔ثمّ یقبل کفیه أي بعد الإشارة المذکورة، قال في الفتح: ویفعل في کل شوط عند الرکن الأسودما یفعله في الابتداء". (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الحج، فصل في الإحرام وصفة المفرد، ج: 2، ص: 494)


فتویٰ نمبر : 10647/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں