بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/08/2026 |
دارالافتاء
وضو میں ہاتھ کی انگلیوں کا خلال کرنا
سوال
وضو میں ہاتھ کی انگلیوں کا خلال کرنا سنت ہے یا واجب؟ اور اس کا طریقہ کیا ہے اور کب کرنا چاہیے؟
جواب
وضوکرتے وقت دونوں ہاتھ (یعنی بازؤں کو کہنیوں سمیت) دھونے کے بعد دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کا خلال سنت ہے، اور اگر کسی کی انگلیاں باہم اس طرح ملی ہوئی ہوں کہ تہہ تک پانی نہ پہنچتاہوتو ایسے شخص کے لیے انگلیوں کا خلال واجب ہوگا۔ اور ہاتھ کی انگلیوں کے خلال كا طریقہ یہ ہے کہ ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر خلال کرے۔ اور یہ بھی کہ خلال کرتے وقت ہاتھ پانی سے ایسے تر ہوں کہ اس سے پانی کے قطرے ٹپک جائیں۔
(ومنها تخليل الأصابع) وهو إدخال بعضها في بعض بماء متقاطر وهذا سنة مؤكدة اتفاقا كذا في النهر الفائق هذا إذا وصل الماء إلى أثنائها وإن لم يصل بأن كانت منضمة فواجب، كذا في التبيين. (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الطہارۃ، الفصل الثاني في سنن الوضوء، ج: 1، ص: 7)
قوله: وتخليل الأصابع) هو سنة مؤكدة اتفاقا، وما في الشرنبلالية من ذكر الخلاف إنما ذكره في تخليل اللحية كما قدمناه فافهم. قال في البحر: وقيده في السراج: أي التخليل بأن يكون بماء متقاطر في تخليل الأصابع ولم يقيده في تخليل اللحية.
أقول: قد علمت من الحديث المار التقييد في تخليل اللحية بأخذ كف من ماء. وفي البحر ويقوم مقامه: أي تخليل الأصابع الإدخال في الماء ولو لم يكن جاريا. وفيه عن الظهيرية أن التخليل إنما يكون بعد التثليث لأنه سنة التثليث۔۔۔۔ قوله: (وهذا) أي كون التخليل سنة (قوله: فرض) أي التخليل لأنه حينئذ لا يمكن إيصال الماء إلا به فافهم. (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الطہارۃ سنن الوضو، ج: 1، ص: 117/118)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں