بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

تعزیت اور میت کے گھر والوں کو کھاناکھلانے کے ایام


سوال

 میت کے گھر والوں کے ساتھ تین دن کی تعزیت اور اس کے گھر کھانا لے جانے کی ابتدا میت کے انتقال کے دن سے ہوگی یا تدفین کے دن سے کیونکہ بعض دفعہ میت کا انتقال ایک دن ہوجاتاہےاور دفن دوسرےدن کیاجاتاہے؟

 

جواب

تعزیت کا وقت میت کے انتقال سے لے کر تین دن تک ہوتا ہے، اس دوران کسی بھی وقت میت کے اہلِ  خانہ اور اعزّہ و اقارب سے تعزیت کی جاسکتی ہے، وفات سے تین دن کےبعد تعزیت کرنا پسندیدہ نہیں، الا یہ کہ کسی عذر کی وجہ سے تین دن کے اندر نہ کرسکے تو اس کے بعد بھی تعزیت کی جاسکتی ہے۔اس طرح اہل محلہ  میت کے گھر کافوتگی کےدن کھانا  لےجانا مستحب  ہے،اور بعض کے ہاں تین دن ایام تعزیت کے بقدر مستحب ہے ،یعنی  میت کے انتقال سے لے کر تین دن تک ۔

 

التعزية لصاحب المصيبة حسن... ووقتها من حين يموت إلى ثلاثة أيام ويكره بعدها إلا أن يكون المعزي أو المعزى إليه غائبا فلا بأس بها.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الباب الحادي والعشرون في الجنائز... مسائل في التعزية،ج:1،ص:167)

والمعنى جاءهم ‌ما ‌يمنعهم ‌من ‌الحزن عن تهيئة الطعام لأنفسهم، فيحصل لهم الضرر وهم لا يشعرون. قال الطيبي: دل على أنه يستحب للأقارب والجيران تهيئة طعام لأهل الميت اهـ. والمراد طعام يشبعهم يومهم وليلتهم، فإن الغالب أن الحزن الشاغل عن تناول الطعام لا يستمر أكثر من يوم، وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية.(مرقاۃالمفاتیح  کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت،الفصل الثاني،ج:3 ،ص :1241رقم الحديث:1739)


فتویٰ نمبر : 10620/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں