بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

قرض کے بدلے گاڑی دےکرواپس لینے کےلیے قرض سے زائد رقم دینا


سوال

اگر کسی نے دس لاکھ روپے قرض لیے اور  قرض خوا ہ کو بدلےمیں اپنی گاڑی دی اور کہا کہ اس گاڑی کو اپنے پاس رکھو ایک مہینہ بعد میں ساڑھےدس لاکھ دے دونگا اور گاڑی مجھےواپس کرو گے۔تو کیا اس طرح معاملہ کرنا جائز ہےیا ناجائز ؟ اگر ناجائز ہو تو اس کی صحیح صورت کیا ہوگی؟

جواب

کسی سے قرض لےکراس کےبدلےکوئی چیز رکھنا رہن کہلاتا ہےجس کو  مرتہن  نہ استعمال کرسکتاہےاور نہ  راہن کی اجازت کے بغیر بیچ سکتا ہے ۔

صورت مسئولہ میں   دس لاکھ روپےقرض  لے کر گاڑی دینا بطور رہن ہے  ۔لہذا مہینہ بعد ساڑھے دس لاکھ دینا  گاڑی کی قیمت نہیں بلکہ قرض کی ادائیگی ہے جو  پچاس ہزار سود کے ساتھ ادا کیا جاتاہے،اس لیےکہ مرتہن اس گاڑی کو راہن پر نہیں بیچ سکتا کیونکہ وہ پہلے سے راہن کی ملکیت ہےلہذا اس طرح کا معاملہ کرنا جائز نہیں ۔اس کو چاہیے کہ  صرف اصل قرض (دس لاکھ روپے) دے کر اپنی گاڑی واپس لے لے۔

 

جعل الشيء محبوسا بحق يمكن استيفاؤه من الرهن(فتح  القدير كتاب الرهن  ج:10 ص:135)

(باب الربا)... عرفه شرعاً بقوله (فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال). (البحرالرائق،كتاب البيوع ،باب الربا،ج:6،ص:135)

والراهن: المالك، والمرتهن: آخذ الرهن.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الرهن، ج:6،ص:477)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں