بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

ماہِ محرم میں شہدائے کربلا کے لیے ایصالِ ثواب


سوال

شہدائے کربلا کے ایصالِ ثواب کے لیے مخصوص ایامِ محرم و عاشورا میں  فاتحہ خوانی، مجلس ،دعوت وغیرہ کا اہتمام کرنا شرعی لحاظ سے  کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی  سے متعلق یہ سمجھنا چاہیے کہ  شریعت میں اس کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں ہے، جو شخص جس وقت جس دن چاہے، کوئی بھی نفلی عبادت کر کے اُس کا ثواب میت کو بخش سکتا ہے، مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے اعزہ و اقارب کا نفسِ قرآن کریم پڑھنااور میت کے لیے دعا کرنا جائز ہے، لیکن مروجہ  طریقہ پر  باقاعدہ دن متعین کرکے اجتماعی طور پر مجلس منعقد کرنااور  اجتماعی طور پر فاتحہ خوانی کرنا،اور اس میں کھانے پینے کا انتظام کرنا  اور لوگوں کو باقاعدہ دعوت دے کر جمع کرنا، نہ آنے والوں سے ناراضی کا اظہار کرنا  اور ان سب باتوں کو باعثِ ثواب اور شریعت کا حصہ سمجھنا بدعت ہے جو کہ ناجائز وممنوع ہے۔

لہذا شہدائے کربلا کے ایصالِ ثواب کے لیے مخصوص ایامِ محرم و عاشورامیں فاتحہ خوانی، مجلس وغیرہ کا اہتمام کرنا اور اسے شریعت کا مستقل حصہ سمجھنا بدعت ہے جو  ناجائز ہےلہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیے،تاہم ایصالِ ثواب کے لیے بغیر کسی مخصوص وقت یا دن کے فاتحہ خوانی کرنایا صدقہ  دینا ممنوع نہیں۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"‌من ‌أحدث ‌في ‌أمرنا ‌هذا ‌ما ليس فيه فهو رد".( الصحيح للبخاري، کتاب الصلح، باب: إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود، ج:2، ص:959 ) ‌

عن أبي هريرة:"أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم: ‌إن ‌أبي ‌مات ‌وترك ‌مالا ‌ولم ‌يوص، ‌فهل ‌يكفر ‌عنه ‌أن ‌أتصدق ‌عنه؟ قال: نعم".( الصحيح لمسلم، کتاب الوصية، ‌‌باب وصول ثواب الصدقات إلى الميت،ج:5، ص:73 )

عن ‌عبد ‌الله ‌بن ‌مسعود ‌قال:"اتبعوا ‌آثارنا ، ‌ولا ‌تبتدعوا؛ ‌فقد ‌كفيتم".( البدع والنهي عنها، ‌‌باب ما يكون بدعة ص:36 )

(والثاني): ‌أن ‌يطلب ‌تركه، ‌وينهى ‌عنه ‌لكونه ‌مخالفة ‌لظاهر ‌التشريع من جهة ضرب الحدود، وتعيين الكيفيات، والتزم الهيئات المعينة، أو الأزمنة المعينة مع الدوام، ونحو ذلك، وهذا هو الابتداع والبدعة، ويسمى فاعله مبتدعا....( البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج،كتاب الصلاة، باب بيان كون الصلاة قصدا، والخطبة قصدا، وكيفية خطبته صلى الله عليه وسلم، ج:17، ص:272 )

‌ولأن ‌ذكر ‌الله ‌تعالى ‌إذا ‌قصد ‌به ‌التخصيص ‌بوقت ‌دون ‌وقت ‌أو ‌بشيء ‌دون ‌شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به؛ لأنه خلاف المشروع.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصلاة، باب العيدين، ج:2، ص:172 )

وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره.( رد المحتار، كتب الصلاة، باب صلاة الجنائز، مطلب في الثواب على المصيبة، ج:2، ص:240 )


فتویٰ نمبر : 6364/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں