بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں بورنگ کےلیے جمع شدہ چندہ سے بچنے والی رقم کو مسجد کی دوسری ضروریات میں لگانا


سوال

 ہم اپنی مسجد میں بورنگ کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کے لیے چند افراد نے تعاون کرتے ہوئے تقریباً ایک لاکھ روپے چندہ دیا ہے۔ اندازے کے مطابق بورنگ پر زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار روپے خرچ آئے گا۔ کیا باقی بچنے والی رقم (پچاس ہزار روپے) کو مسجد کی دیگر  ضروریات پر خرچ کرنا شرعاً جائز ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ جن کاموں کے لیے  چندہ دیا جائےتو  وہ رقم انہی کاموں میں صرف کی جائے ،دوسرے کاموں میں چندہ دہندہ گان کی اجازت کے بغیرخرچ کرنا درست نہیں ۔کیونکہ چندہ جمع کرنے والے کی حیثیت محض امین اور وکیل کی ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں  جو چندہ بورنگ کے لیےکیا گیا ہے،اس میں جورقم بچتی ہے  تو چندہ دینے والوں کی اجازت کے بغیر اس رقم کومسجد کی دوسری ضروریات میں خرچ کرنا شرعا جائز نہیں۔البتہ اگر چندہ دہندہ گان اس رقم کو  دوسری  جگہ میں خرچ کرنے کی اجازت دیں  یا ان کی طرف سے دلالۃ اجازت ہو تو پھرشرعاً ایسا کرنا جائز ہے ۔

 

‌وهنا ‌الوكيل ‌إنما ‌يستفيد ‌التصرف ‌من ‌الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،کتاب الزکاة،ج:2،ص:269)

"سئل أبو نصر عن رجل جمع مال الناس على أن ينفقه في بناء المسجد فربما يقع في يده من تلك الدراهم فأنفقها في حوائجه ثم يرد بدلها في نفقة المسجد من ماله أيسع له ذلك ؟قال:لا يسعه أن يستعمل من ذلك في حاجة نفسه فان عرف مالكه رد عليه وسأله تجديد الإذن فيه وإن لم يعرف إستأذن الحاكم فيما أستعمل وضمن."(الفتاوى التاتارخانية،کتاب الوقف،ج:8،ص:177)


فتویٰ نمبر : 6367/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں