بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 10/10/2026

دارالافتاء

 

معذورشخص کے لیےعمرہ اورطواف کا طریقہ


سوال

ایک شخص کو پیشاب کےقطرے بہت زیادہ آتے رہتے ہیں، وہ گھر پر کپڑےبدل کرنمازپڑھ لیتا ہے، مگرقطرے پھر بھی آجاتے ہیں، اب وہ عمرہ پرجانا چاہتا ہے، توایسی حالت میں اس کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

اگرکسی شخص کوپیشاب کےقطرے آنےکی ایسی بیماری ہوکہ نماز کے پورے وقت میں اس کے لیےاتنا وقت بھی پاکی کے ساتھ میسرنہ ہوکہ وہ وضو کرکے فرض نمازادا کرسکے، توشریعت میں ایسا شخص معذورشمارہوگا، لیکن اگرقطرے مسلسل نہ آتے ہوں، بلکہ وقفے وقفےسےآتے ہوں اوراس دوران وضو کرکے نمازادا کرنا ممکن ہو، تو وہ معذورنہیں کہلائے گا، معذورشخص کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ ہرنمازکے وقت نیا وضو کرکےاس وقت کےاندرتمام عبادات فرض ونفل ادا کرسکتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگرکسی شخص کی حالت ایسی ہوکہ نمازکے پورے وقت میں وہ اتنی دیربھی پاک نہ رہ سکےکہ وضوکرکے فرض نمازادا کرسکے، توایسا شخص شرعاً معذورشمارہوگا، اس صورت میں عمرہ ادا کرتے وقت وہ ہرنمازکےوقت ایک مرتبہ وضو کرے اوراس وضو سے وقت کےاندر جتنے طواف کرنا چاہے کرسکتا ہےاورجتنی نمازیں چاہےادا کرسکتا ہے، جب اگلی نمازکا وقت داخل ہوجائےتونیا وضو کرے گا، اگرطواف کے دوران نمازکا وقت ختم ہوجائے، تووہ مطاف سے باہر نکل ک نیا وضو کرے، پھرواپس آکرطواف وہیں سے شروع کرے جہاں سے چھوڑا تھا، البتہ اگروقت ختم ہونے سے پہلے صرف دویا تین چکرمکمل ہوئے ہوں، توبہتریہ ہے کہ وضوکے بعد طواف نئے سرے سےکیا جائے۔

 

 (‌وصاحب ‌عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه ...(إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلی فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لان الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (فی حق الابتداء، وفی) حق (البقاء كفی وجوده فی جزء من الوقت) ولو مرة.

(وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحو (لكل فرض) (ثم يصلی) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالاولى. (ردالمحتارعلی درالمختار، كتاب الطهارة، باب الحيض، ج:1 ص:504)

ولو خرج من الطواف إلی تجدید وضوء ثم عاد بنی لو کان ذلك بعد إتیان أکثره، …ویستحب الاستیناف في الطواف إذا کان ذلك قبل إتیان أکثره،…وصاحب العذر الدائم إذا طاف أربعة أشواط ثم خرج الوقت توضأ وبنی ولا شیٴ علیه، وکذا إذا طاف أقل منها إلا أن الإعادة حینئذ أفضل. (غنیة الناسك، قبیل باب السعي بین الصفا والمروة، ص:68)

ولو خرج من الطواف أو من السعی إلی جنازة، أو مكتوبة، أو تجديد وضوء، ثم عاد، بنی لو كان ذلك بعد إتيان أكثره، ولو إستأنف لا شیء عليه...ويستحب الاستئناف فی الطواف إذا كان قبل إتيان أكثره...وصاحب العذر الدائم إذا طاف أربعة أشواط ،ثم خرج الوقت، توضأ وبنی، ولا شیء عليه، وكذا إذا طاف أقل منها إلا أن الإعادة حينئذ يستحب. (غنية الناسك فی بغية المناسك، باب الطواف، ص:127)


فتویٰ نمبر : 10630/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں