بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تقریر کے آخرمیں وماعلینا الا البلاغ ،کہنا


سوال

 کسی مصنف یا مقررکا آخرمیں یہ " وما علینا الاالبلاغ " کہنا یا لکھنا کیسا ہے کیا یہ درست ہے؟

جواب

علماء اورخطباء عموماً قرآنی اسلوب تبلیغ کی رعایت رکھتے ہوئےاپنی تقریرکے آخرمیں قرآن مجید سےاقتباس کے طور" وماعلینا الا البلاغ "  پڑھتے ہیں اوراس سے وہ سامعین کوبتلاتے ہیں کہ حق بات کہنا اوراس کو پہنچانا ہمارا فرض تھا باقی اس پرعمل کرنا آپ لوگوں کی ذمہ داری ہے گویا یہ ایک طرح سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا اعلان ہوتا ہے۔ چونکہ قرآن مجید سےاس طرح اقتباس جائزہےلہذا کسی اصلاحی تقریر  کے آخرمیں اس طرح کہنایا کسی اصلاحی مضمون کے آخرمیں اس طرح لکھنا جائزہے۔  

 

مطلب الاقتباس من القرآن جائزعندنا [تنبيه] قولهم أن تضع الحرب أوزارها اقتباس من القرآن،وبه يستدل على جوازه عندنا كما بسطه الشارح في الدر المنتقى فراجعه.(ردالمحتار على الدر المختار،ج:4،ص:152)


فتویٰ نمبر : 6424/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں