بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چار پائی میں نماز پڑھنا


سوال

چار پائی میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

فقہاے کرام نے سجدہ کرنے کےليے جو شرائط بیان کی ہیں ان میں سے ایک شرط یہ بھی ہےکہ سجدہ ایسی جگہ پر ادا نہ کیاجائے جو اتنا نرم ہو کہ پیشانی صحیح طرح سے ٹک نہ سکے یعنی  سجدہ کرنے والے کے مزید زور دینے سے سرمزیدنیچے جاسکے۔

صورت ِمسئولہ کےمطابق اگر كوئی چار پائی ایسی ہوکہ جس پر بستر،کمبل وغیرہ   رکھاہواور اس پر سجدہ کرکے زور دینےسے مزید دبایا جا سکتا ہو،تو ایسی چار پائی پر سجدہ کرنا جائز نہیں اور اگر زور دینے سے سجدہ کرنے والے کا سرمزید نیچے نہ جائے تو پھرسجدہ کرنا درست ہے۔

 

(قوله وأن يجد حجم الأرض) تفسيره أن الساجد لو بالغ لا يتسفل رأسه أبلغ من ذلك، فصح على طنفسة وحصير وحنطة وشعير وسرير وعجلة وإن كانت على الأرض لا على ظهر حيوان كبساط مشدود بين أشجار، ولا على أرز أو ذرةأو حشيش إلا إن وجد حجمه، ومن هنا يعلم الجواز على الطراحة القطن، فإن وجد الحجم جاز وإلا فلا بحر.(رد المحتارعلی الدر المختار کتاب الصلاة،باب صفة الصلاة،ج:1،ص:501)


فتویٰ نمبر : 10624/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں