بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عدت کے دوران سالی سے نکاح کرنا


سوال

میں نے پندرہ (15)سال پہلے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی ،پھر میں نے بیس(20)دن بعد اس کی سگی بہن سے نکاح کیا تو کیا میرا یہ نکاح درست ہے یا نہیں؟نیز اگر یہ نکاح درست نہیں ہے تو اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ مجھے بعض لوگوں نے کہا کہ فورًا نکاح کرو اور بعض نے کہا کہ بیوی سے علیحدگی اختیار کرکے وہ عدت گزارے اور پھر نکاح کرو،کونسی بات ٹھیک ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جس طرح کسی شخص کے لیے اپنی بیوی کی بہن سے اُس وقت نکاح کرنا حرام ہےجب وہ اس کے نکاح میں ہو، تواسی طرح اگر اس کو طلاق دے دی تومطلقہ بیوی کی عدت کے دوران بھی اس کی بہن سے نکاح کرنا  حرام ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق سائل نے پہلی بیوی کی عدت مکمل ہونے سے پہلے پہلے اپنی سالی سے جو نکاح کیا ہے ،یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا ہے۔ لہذااب سائل کو چاہیے کہ آپس کی رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کے ساتھ دوبارہ نکاح کرے۔ البتہ اب اس میں عدت گزارنے کی شرط نہیں ہے۔

 

وإذا طلق امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا لم يجز له أن يتزوج بأختها حتى تنقضي عدتها.(الهداية،كتاب النكاح،فصل في بيان المحرمات، ج:1،ص:188)

(و)حرم( الجمع )بين المحارم(نكاحا)أي عقدا صحيحا(وعدة ولو من طلاق بائن و)حرم الجمع(وطأ بملك يمين بين امرأتين أيتهما فرضت ذكرا لم تحل للأخرى).(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب النكاح،فصل في المحرمات،ج:3،ص:38)

وإنما كان كذلك؛ لأن العدة في الأصل إنما وجبت تعرفاً لبراءة الرحم، لحاجة الأزواج إلى ‌صيانة ‌مائهم ‌عن ‌الاختلاط.(المحيط البرهاني،كتاب الطلاق،الفصل السادس والعشرون في مسائل العدة بالحيض،ج:3،ص:465)


فتویٰ نمبر : 7226/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں