بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

ایک رکعت میں تین سجدے کرنے پر سجدہ سہو


سوال

نماز میں امام نے غلطی سے ایک رکعت میں تین سجدے کر لیے۔ بعد میں اسے یاد آیا، تو اس نے سجدہ سہو کیا اور نماز مکمل کی۔کیا تین سجدوں سے نماز فاسد ہوئی؟کیا سجدہ سہو اس غلطی کا کفارہ بن جائے گا؟

جواب

نماز کی ایک رکعت میں دو سجدے کرنا فرض ہے، اگر کسی نے غلطی سے تین سجدے کر لیے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی،البتہ اس کے ازالہ کے لیےسجدہ سہو کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اگر ایک رکعت میں تین سجدے کرنے کے بعد آخر میں سجدہ سہو نہیں کیا، تو وقت  گزرنے سے پہلے پہلے اس نماز کا اعادہ کرنا واجب ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر امام نےایک رکعت میں تین سجدے کرنے کےبعد  سجدہ سہو کیا ہو تو نماز درست ہے۔

 

وقد اقتصر المصنف على هذه الواجبات في باب صفة الصلاة وبقي واجب آخر وهو عدم تأخير الفرض والواجب وعدم تغييرهما وعليه تفرع مسائل منها لو ركع ركوعين أو سجد ثلاثا في ركعة لزمه السجود لتأخير الفرض وهو السجود في الأول والقيام في الثاني. ( البحرالرائق شرح كنز الدقائق،کتاب الصلاة،باب سجود السهو،ج:2،ص:105)

كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوباً في الوقت، وأما بعده فندب. (حاشية الطحطاوي،كتاب الصلاة،باب قضاء الفوائت،ص:440)


فتویٰ نمبر : 10629/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں