بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

فکسڈ ڈیپازٹ کی صورت میں رکھی ہوئی رقم پر زکوۃ


سوال

ایک خاتون نے اپنی رقم بینک میں فکسڈ ڈیپازٹ کی صورت میں رکھی ہوئی ہے، جس پر وہ سالانہ نفع بھی حاصل کرتی ہے۔ کیا اس فکسڈ ڈیپازٹ رقم پر زکاۃ واجب ہے؟ اور نفع کی رقم پر زکاۃکاکیا حکم ہے؟

جواب

روایتی بینکوں میں فکسڈ ڈپازٹ کی صورت میں رقم  رکھنا جائز نہیں کیونکہ اس  میں رکھنے کا مقصد سود کا حصول ہوتا ہے۔تاہم اگر مالک صاحب نصاب ہوتواس  رقم پر زکوۃ واجب ہوگی۔نیز اس کے منافع چونکہ سود ہیں،اور سود کے مال پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی اور نہ زکوۃ کی ادائیگی میں قابل قبول ہوتی ہے،اس لیے سودکی رقم میں زکوۃواجب نہیں بلکہ سود کے تمام مال کو  بلا نیت ثواب غربا و فقرا میں تقسیم کرنا لازمی ہے۔

 

‌‌(باب الربا)... عرفه شرعاً بقوله (فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال). (البحرالرائق،كتاب البيوع ،باب الربا،ج:6،ص:135)

في القنية لو ‌كان ‌الخبيث نصابا لا يلزمه الزكاة؛ لأن الكل واجب التصدق عليه فلا يفيد إيجاب التصدق ببعضه، ومثله في البزازية قال في الشرنبلالية وبه صرح في شرح المنظومة(البحرالرائق،كتاب الزكوة،شروط وجوب الزكوة،ج:2،ص:221)

أما ربا النسيئة ‌فهو ‌الأمر ‌الذي كان مشهورا متعارفا في الجاهلية، وذلك أنهم كانوا يدفعون المال على أن يأخذوا كل شهر قدرا معينا، ويكون رأس المال باقيا، ثم إذا حل الدين طالبوا المديون برأس المال، فإن تعذر عليه الأداء زادوا في الحق والأجل، فهذا هو الربا الذي كانوا في الجاهلية يتعاملون به.( تفسیر کبیر للإمام فخرالدین الرازي،الحكم الثاني: من الأحكام الشرعية ...،رقم الآیة:275،ج:7،ص:71)


فتویٰ نمبر : 10617/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں