بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے شوہر فوت ہونے کی صورت میں عدت


سوال

ایک  شخص نےمنگنی کرکےباقاعدہ نکاح باندھاتھااوردوران نکاح تین تولہ سونامہرمقررکیاگیاتھا۔اب وہ بندہ شادی(رخصتی)سےپہلےفوت ہوگیا،تواب دریافت طلب امریہ ہےکہ اس منکوحہ پرعدت گزارنالازم ہےیانہیں؟اورمنکوحہ مہرمسمی کی مستحقہ ہےیانہیں؟

جواب

واضح رہےکہ عدت کےاسباب میں سےایک سبب شوہرکی موت ہےیعنی جب کسی عورت کاخاوندفوت ہوجائےخواہ رخصتی سےپہلےفوت ہواہویابعد میں بہرصورت اس پرعدت(چارماہ دس دن گزارنا)لازم ہوجاتاہے،نیزاگرخاوندفوت ہوجائےاورمہرمتعین ہوتوبیوہ پورےمہرکی حقدارہوتی ہے۔

لہذاصورت مسئولہ کےمطابق جب مذکورہ عورت کاخاوندفوت ہواتواگرچہ رخصتی نہیں ہوئی،پھربھی اس پرشرعاعدت وفات(چارماہ دس دن گزارنا)لازم ہےاوریہ عدت شوہر کی موت کےبعدبلاتاخیرشروع ہوجاتی ہے، نیزشوہرکےفوت ہونےکی صورت میں بیوہ پورےمہرکی حقدارہوگی۔

وأما ‌الذي ‌يجب ‌أصلا ‌بنفسه ‌فهو ‌عدة ‌الوفاة، وسبب وجوبها الوفاة قال الله تعالى {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا} [البقرة: 234] ، وأنها تجب لإظهار الحزن بفوت نعمة النكاح إذ النكاح كان نعمة عظيمة في حقها فإن الزوج كان سبب صيانتها، وعفافها، وإيفائها بالنفقة، والكسوة، والمسكن فوجب عليها العدة إظهارا للحزن بفوت النعمة، وتعريفا لقدرها، وشرط وجوبها النكاح الصحيح فقط فتجب هذه العدة على المتوفى عنها زوجها، سواء كانت مدخولا بها أو غير مدخول بها، وسواء كانت ممن تحيض أو ممن لا تحيض؛ لعموم قوله عز وجل {والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا}. (بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع، کتاب الطلاق، فصل في عدةالأشهر، ج:4، ص:418- )

" ومن سمى مهرا عشرة فما زاد فعليه المسمى إن دخل بها أو مات عنها " لأنه بالدخول يتحقق تسليم المبدل وبه يتأكد البدل وبالموت ينتهي النكاح نهايته والشيء بانتهائه يتقرر ويتأكد فيتقرر بجميع مواجبه "  (الهداية، كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص:54-5،)


فتویٰ نمبر : 7224/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں