بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

جائیداد پرمکمل قبضہ دیے بغیر محض کاغذی کارروائی سے ہبہ کا حکم


سوال

میں مسماۃ شاہین اختر بیوہ حاجی نصراللہ جان عمر فاروق سٹریٹ جہانگیرپورہ کی رہائشی ہوں، 2022 میں میں نےاپنی مرضی سےاپنا مملوکہ چار مرلے مکان اپنے دو چھوٹے بیٹوں کے نام کردیا، اس نیت سے کہ وہ اچھے وفرمانبردار ہوجائیں گے، لیکن انہوں نےمیری اس خیر خواہی کا غلط استعمال کیا اور میری پرواہ کرنا چھوڑ دی جس کی وجہ سے میری حالت بہت بری ہوگئی۔ میرے کل چار بیٹے(نعیم احمد خان، عمران احمد، محمد بلال احمد، اور خباب احمد) اور تین بیٹیاں(رفعت شاہین، سمیرا نصراللہ اور عائشہ سمرین) ہیں۔ مجھے اب یہ لگتا ہے کہ میں نے شریعت کے خلاف کام کیا ہے اوراپنے دوسرے بچوں کی حق تلفی کی ہے۔ لہٰذا میں اپنے دونوں بیٹوں سے یہ جائیداد واپس لینا چاہتی ہوں، اور اپنی جائیداد  تمام بچوں میں شریعت کے لحاظ سے برابر تقسیم کرنا چاہتی ہوں۔واضح رہے کہ اس گھر میں میں اور میرے بیٹےاکھٹے رہتے ہیں، ان دو بیٹوں کو کوئی مستقل قبضہ میں نے نہیں  دیا، صرف کاغذی کارروائی کی ہے۔

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک شخص اپنی زندگی میں بحالتِ صحت وبقائے ہوش وحواس اپنی مملوکہ جائیداد میں ہر قسم کے مالکانہ تصرفات کا حق رکھتا ہے۔ لہٰذا وہ اپنی جائیداد کسی کوہبہ بھی کرسکتا ہے، تاہم ہبہ تام ہونے کے لیےضروری ہے کہ ہبہ کرنے والا وہ چیز موہوب لہ(جس کو ہبہ کیا جارہا ہو) کے قبضہ اور تصرف میں دے دے، اور اس چیزسے اپنا تصرف مکمل طور پر ختم کردے، قبضہ دیے بغیر شرعاً ہبہ درست نہیں ہوتا، اور چند افراد کو مشترکہ طور پر ہبہ کرنے کی صورت میں یہ بھی ضروری ہے کہ ہر ایک کا حصہ متعین کرکے باقاعدہ تقسیم کرکے اس کو دیا جائے، ورنہ تقسیم کیے بغیر مشترکہ ہبہ درست نہیں ہوگا۔

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی حسبِ سوال سائلہ نے چار مرلے مکان کاغذی کارروائی کے ذریعےاپنے دو بیٹوں کے نام کیا ہو، لیکن ان کو مستقل قبضہ  وتصرف نہ دیا ہو، اور ان دونوں کے حدود بھی الگ الگ متعین نہ کیے ہوں، توصرف ان کے نام کردینے سے وہ شرعاً مالک متصور نہ ہوں گے۔ لہٰذاوہ مکان بدستور سائلہ کی ملکیت میں برقرارشمارہوگا، لہٰذاسائلہ اس میں اپنے اختیار سے ہر جائز تصرف کر سکتی ہے۔

 

‌لا ‌يثبت ‌الملك ‌للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية. (الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز، ج:4، ص:378)

 (‌وتتم) ‌الهبة (‌بالقبض) ‌الكامل (‌ولو ‌الموهوب ‌شاغلا ‌لملك ‌الواهب ‌لا ‌مشغولا ‌به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط لأن كلا منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك واهبه لا يمنع تمامها كرهن وصدقة لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الهبة، ج:5، ص:689-690)

واعلم أن الضابط في هذا المقام أن الموهوب إذا اتصل بملك الواهب اتصال خلقة، وأمكن فصله لا تجوز هبته ما لم يوجد الانفصال، والتسليم كما إذا وهب الزرع، أو الثمر بدون الأرض والشجر أو بالعكس، وإن اتصل اتصال مجاورة فإن كان الموهوب مشغولا بحق الواهب لم يجز، كما إذا وهب السرج على الدابة، لأن استعمال السرج إنما يكون للدابة فكانت للواهب عليه يد مستعملة، فتوجب نقصانا في القبض، وإن لم يكن مشغولا جاز كما إذا وهب دابة مسرجة دون سرجها لأن الدابة تستعمل بدونه، ولو وهب الحمل عليها دونها جاز؛ لأن الحمل غير مستعمل بالدابة، ولو وهب دارا دون ما فيها من متاعه لم يجز. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الهبة، ج:5، ص:689-690)


فتویٰ نمبر : 6358/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں