بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

غیرشرعی پروگراموں میں پولیس کی ڈیوٹی اور تنخواہ کا حکم


سوال

ایک پولیس کو اکثر عدالتی حکم کے تحت ڈانس پارٹی یا غیر شرعی پروگروموں پر مامور کیا جاتا ہے، جہاں بے حیائی و شراب عام ہوتی ہےکیا ایسے مقام پر ڈیوٹی دیناشرعاً جائز ہے؟ اور ایسی ڈیوٹی سے حاصل ہونے والی تنخواہ کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی متعین فرد یا ادارے کی طرف سے کسی خاص وقت یا مقررہ مدت کے لیے کام پر مامور ہو، تو وہ "اجیرِ خاص" کہلاتا ہے۔ اجیر خاص اپنی جائزذمہ داری نبھانے کا پابندہوتا ہے۔ جائز ذمہ داری نبھانےمیں اگرعمومی مصلحت کے پیش نظراس سے کوئی  خلاف شرع عمل سرزد ہوتا ہو، تو مفادعامہ کے خاطربقدرضرورت وہ عمل جائز متصور ہوگا۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر پولیس اہلکارایسے پروگراموں پر مامور کیا جاتا ہے، جہاں بے حیائی، ناچ گانے، شراب نوشی یا دیگر منکرات ہو رہے ہوں، لیکن اس کی نیت ایسے مقامات پر محض امن وامان قائم رکھنا اور کسی بڑے فتنہ و فساد سے بچانا ہو، اور وہ منکرات پر رضامندی کے بغیر صرف اپنی ذمہ داری پوری کررہا ہو، تو اس کے لیے ایسی ڈیوٹی دینے کی گنجائش ہے، بشرطیکہ متبادل ڈیوٹی حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ نیز ایسے مجبوری کے تحت انجام دی جانے والی  ڈیوٹی سے حاصل ہونے والی تنخواہ شرعاً حرام نہ ہوگی۔

 

يغتفر في التوابع مالا يغتفر في غيرها...قد ثبت الشيء ضمنا وحكما ولا يثبت قصدا. (شرح المجلة لخالد الأتاسي، مادة:54، ج:1، ص:131)

ولواٰجر نفسه ليحمل له الخمر يكره؛ لأن التصرف في الخمر حرام قال: هكذا أطلق لكن هذا قولهما، أما على قول أبي حنيفة: لايكره، وكذا في كل موضع تعلق المعصية بفعل فاعل مختار.(خلاصة الفتاوى،كتاب الإجارة،الفصل العاشر: في الحضر والإباحة، ج:3،ص:149)

وعلى هذا يخرج ‌الاستئجار ‌على ‌المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح بخلاف الاستئجار لكتابة الغناء والنوح أنه جائز؛ لأن الممنوع عنه نفس الغناء، والنوح لا كتابتهما وكذا لو استأجر رجلا ليقتل له رجلا أو ليسجنه أو ليضربه ظلما وكذا كل إجارة وقعت لمظلمة؛ لأنه استئجار لفعل المعصية فلا يكون المعقود عليه مقدور الاستيفاء شرعا. (بدائع الصنائع، كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة، ج:4، ص:189


فتویٰ نمبر : 3855/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں