بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چار بھائیوں کے مشترکہ مال پر زکوٰۃ


سوال

ہم چار بھائی ہیں، ہم میں سے کوئی بھی انفرادی طور پر صاحبِ نصاب نہیں ہے، البتہ ہمارے پاس مشترکہ طور پر پانچ لاکھ روپے موجود ہیں، جو نصاب کی مقدار کو پہنچتے ہیں۔ کیا اس صورت میں ہم پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کے واجب ہونے کے متعلق شریعت نے ہرآدمی کی اپنی ملکیت کا اعتبار کیاہے،جہاں تک مشترکہ مال کا تعلق ہے، تو جب تک  کسی شریک کا حصہ اور اس کے پاس موجود دیگر مال یعنی سونا، چاندی، نقدی یامال تجارت کو ملا کر نصاب (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کو نہ پہنچے، تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، البتہ جب مشترکہ مال میں کسی شریک کا حصہ اس کےدیگراموالِ زکوٰۃ کے ساتھ مل کرنصاب کے بقدر ہوجائے، تو حولانِ حول کے بعداس پر زکوٰۃ واجب ہو گی۔

صورتِ مسئولہ میں اگرچاروں بھائیوں میں سے کوئی بھی انفرادی طور پر صاحب ِ نصاب نہ ہو، تو صرف مشترکہ طور پرجمع شدہ رقم میں زکوٰۃ نہیں، اگر چہ اس کا مجموعہ نصاب کے برابر ہو، کیونکہ وجوبِ زکوٰۃ میں ہر شخص کی انفرادی ملکیت کا اعتبار کیا جاتا ہے، البتہ اگر مشترکہ مال میں سےکسی بھائی کا حصہ اور اس کی ملکیت میں موجود دیگراموالِ زکوٰۃ مل کر نصا ب تک پہنچتے ہوں، تو پھراس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔

 

(ولا تجب) الزكاة عندنا (في نصاب) مشترك (من سائمة) ومال تجارة (وإن صحت الخلطة فيه) باتحاد أسباب الإسامة التسعة التي يجمعها أوص من يشفع وبيانه في شروح المجمع ‌وإن ‌تعدد ‌النصاب تجب إجماعا، ويتراجعان بالحصص، وبيانه في الحاوي، فإن بلغ نصيب أحدهما نصابا زكاه دون الآخر، ولو بينه وبين ثمانين رجلا ثمانون شاة لا شئ عليه لانه مما لا يقسم، خلافا للثاني. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج:2، ص:304)

 (قوله: في نصاب مشترك) المراد أن يكون بلوغه النصاب بسبب الاشتراك وضم أحد المالين إلى الآخر بحيث لا يبلغ مال كل منها بانفراده نصابا..... (قوله: ‌وإن ‌تعدد ‌النصاب) أي بحيث يبلغ قبل الضم مال كل واحد بانفراده نصابا فإنه يجب حينئذ على كل منهما زكاة نصابه. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج:2، ص:304)

قال أصحابنا: وإذا كان النصاب بين خليطين لاتجب فيه الزكاة، وقال الشافعي: تجب عند وجود شرائط الخلط، وذالك بأن يتحد الراعي، والمرعى، والمراح، والمسرح، والبئر، والكلب، الفتاوى العتابية: لو كانت السوائم بين اثنين فبلغ نصيب واحد نصابا دون الآخر تجب عليه دون صاحبه، ولو لم يبلغ نصيب كل واحد نصابا لا يجب شئ، وفي شرح الطحاوي: فإن كان نصيب كل واحد منهما على الإنفراد يبلغ نصابا كاملا تجب الزكاة وإلا فلا. (الفتاوى التاتارخانية، كتاب الزكاة، الفصل الثاني عشر في صدقات الشركاء، ج:3، ص:242)


فتویٰ نمبر : 10612/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں