بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امامت کی ترجیحی اسباب میں سرکا بڑااورعضو کا چھوٹا ہونا


سوال

فقہِ حنفی کی بعض کتابوں میں امامت کے اہل افراد کے بیان میں ایسے مسائل بھی مذکور ہیں جن میں امام کے لیے سر کا بڑا اورعضو (یعنی ذکر) کا چھوٹا ہونا ترجیحی سبب قرار دیا گیا ہے۔ بعض شراح، مثلاً حاشیۃ الطحطاوی میں "عضو" کی تفصیل "ذکر" سے کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے نکات ذکر کرنا مناسب ہے؟ اور اگر یہ بات درست بھی ہو تو ایسے خصائص کا علم عام افراد کو کیسے ہوگا؟

جواب

امامت کے ترجیحی اسباب میں سرکابڑا اورعضو کا چھوٹا ہونا بعض کتابوں میں درج ہے پھرعضو کی وضاحت کچھ حضرات نے "ذکر" سے کی ہے جیسے الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں اس قول کوبعض مشائخ کی طرف منسوب کیا گیا ہے لیکن علامہ ابن عابدین " منحۃ الخالق " میں لکھتے   ہیں کہ عضوکی وضاحت میں جوقول کہا گیا ہےاس کا ذکرکرنا مناسب نہیں۔

 

(قوله فأكبرهم رأسا وأصغرهم عضوا) لينظر ما المراد بالعضو، وقد قيل في تفسيره بما لا ينبغي أن يذكر. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري،ج:1،ص:369)

فالأحسن زوجة لشدة عفته فأكبرهم رأسا وأصغرهم عضوا. قوله: "وأصغرهم عضوا" " فسره بعض المشايخ بالأصغر ذكرا لأن كبره الفاحش يدل غالبا على دناءة الأصل ويحرر ومثل ذلك لا يعلم غالبا إلا بالاطلاع أو الأخبار وهو نادر ويقال مثله في الأحسن زوجة المتقدم.(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح،ص:301)

وفي حاشية أبي السعود ؛ وقد نقل عن بعضهم في هذا المقام ما لا يليق أن يذكر فضلا عن أن يكتب اهـ وكأنه يشير إلى ما قيل أن المراد بالعضو الذكر.(ردالمحتار على الدرالمختار،ج:1،ص:558)


فتویٰ نمبر : 10653/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں