بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عدت کے دوران گھر سے باہر نکلنا


سوال

اگر کسی عورت کو طلاق  ہو جائے اور وہ عدت کے ایام میں ہو، تو کیا اس دوران اس کے لیے گھر سے باہر جا کر کسی دینی یا تعلیمی ادارے میں بچیوں کو تعلیم دینا جیسے قرآن مجید پڑھانا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

 واضح رہے کہ عدت کے دوران عورت کے لیے کسی شدید مجبوری کے بغیر گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے،البتہ اگر کوئی شدید مجبوری ہو،تو ایسی صورت میں باہر نکلنے کی گنجائش ہو گی   ۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی عورت کو طلاق  ہو جائے اور وہ عدت کے ایام میں ہو، تو اس دوران اس کے لیے گھر سے باہر جا کر کسی دینی یا تعلیمی ادارے میں بچیوں کو تعلیم دینا شرعا جائز نہیں ہے،کیو نکہ کسی دینی یا تعلیمی ادارے میں بچیوں کو تعلیم دینا کوئی عذرشرعی نہیں ہے ۔

 

 (‌ولا ‌تخرج ‌معتدة ‌رجعي وبائن) بأي فرقة كانت على ما في الظهيرية ولو مختلعة على نفقة عدتها في الأصح اختيار، أو على السكنى فيلزمها أن تكتري بيت الزوج معراج (لو حرة) أو أمة مبوأة ولو من فاسد (مكلفة من بيتها أصلا) لا ليلا ولا نهارا ولا إلى صحن دار فيها منازل لغيره ولو بإذنه لأنه حق الله تعالى. (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطلاق، باب العدة،ج:3ص:535)


فتویٰ نمبر : 7219/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں