بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

نماز میں سدل کرنے کا حکم


سوال

اگر کسی نے لاعلمی کی صورت میں پوری زندگی نماز میں سدل کیا ہو تو اب ان نمازوں کا کیا حکم ہوگا، اعادہ کس طریقے سے کیا جائیگا؟

جواب

واضح رہے کہ سدل نماز میں مکروہ ہےلہذا اس سے احتراز ضروری ہے لیکن اگر کسی نے نماز میں سدل کیا ہو تو نماز مع الکراہت اداہوجاتی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے پوری زندگی نمازوں میں سدل کیا ہو تو اس کی نمازیں   اداہوگئی ہیں ،اب اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں تا ہم آئندہ اس سے احتراز ضروری ہے ۔

 

‌ويكره ‌السدل ‌في ‌الصلاة، واختلف في تفسيره ذكر الكرخي أن سدل الثوب هو أن يجعل ثوبه على رأسه أو على كتفيه ويرسل أطرافه من جوانبه إذا لم يكن عليه سراويل وروي عن الأسود وإبراهيم النخعي أنهما قالا: السدل يكره سواء كان عليه قميص أو لم يكن وروى المعلى عن أبي يوسف عن أبي حنيفة أنه يكره السدل على القميص وعلى الإزار وقال: لأنه صنع أهل الكتاب، فإن كان السدل بدون السراويل فكراهته لاحتمال كشف العورة عند الركوع والسجود وإن كان مع الإزار فكراهته لأجل التشبه بأهل الكتاب وقال مالك: لا بأس به كيفما كان وقال الشافعي إن كان من الخيلاء يكره وإلا فلا، والصحيح مذهبنا؛ لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه «نهى عن السدل من غير فصل(بدائع الصنائع،باب في بيان ما یستحب فی الصلوۃ وما یکرہ، ج:1ص219)


فتویٰ نمبر : 10637/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں