بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

گائے پالنے کے لیے دینا


سوال

اگرکوئی شخص کسی کو گائے پالنے کے لیے اس شرط پر دے دے کہ اس گائے کا بچہ اور دودھ ہمارے درمیان آدھا آدھا  تقسیم ہوگا، تو کیا ایسا معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اجارہ کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ منافع اوراجرت معلوم ومتعین ہو، جبکہ منافع اوراجرت کےمجہول ہونے کی صورت میں اجارہ فاسد ہوجاتا ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق جانور پالنے والے (اجیر) کی اجرت مجہول اورنامعلوم ہےکیونکہ نفع کا حصول اوراس کی مقدار مجہول ہے، اس وجہ سے یہ معاملہ جائزنہیں۔

تاہم اس کی جائز صورت یہ ہے کہ ابتداءً جانورکی قیمت لگائی جائے، پھرجانور کا مالک آدھی  قیمت کے عوض پالنے والے کو اپنے ساتھ  اس جانورمیں شریک کردے، پھر چاہے وہ  قیمت اس سے وصول کرے یا معاف کردے، اس طرح دونوں جانوراوراس کے منافع میں شریک ہوجائیں گے ۔

 

ولا تصح حتى تكون المنافع معلومة والأجرة معلومة لما روينا ولأن الجهالة في المعقود عليه وفي بدله تفضي إلى المنازعة كجهالة الثمن والمثمن في البيع. (الهداية، كتاب الاجارة، ج:3، ص:231)

وعلى ‌هذا ‌إذا ‌دفع ‌البقرة ‌إلى ‌إنسان ‌بالعلف ليكون الحادث بينهما نصفين فما حدث فهو لصاحب البقرة ولذلك الرجل مثل العلف الذي علفها وأجر مثله فيما قام عليها وعلى هذا إذا دفع دجاجة إلى رجل بالعلف ليكون البيض بينهما نصفين، والحيلة في ذلك أن يبيع نصف البقرة من ذلك الرجل ونصف الدجاجة ونصف بذر الفليق بثمن معلوم حتى تصير البقرة وأجناسها مشتركة بينهما فيكون الحادث منها على الشركة. (الفتاوی الهندية، کتاب الشركة، الفصل الخامس فی الشركة الفاسدة، ج:2، ص:336)


فتویٰ نمبر : 3854/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں