بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

خلاف جنس چیز سےوصیت پوری کرنا


سوال

ایک شخص نے وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد بیل ذبح کر کے  فقراء پر کھلانا ،تو ورثانے بجائے بیل ذبح کرنے کے اس کی رقم مسجد میں دے دی ،تو کیا اس صورت میں وصیت پوری ہوگئی یا نہیں؟

جواب

شریعت مطہرہ میں مرنے والے کے لیے وصیت کرنا صرف جائز نہیں بلکہ مستحسن بھی ہے کہ آدمی اپنی  اخروی زندگی کے لیے کچھ رقم آگے بھیج دے ، لیکن وصیت ما ل کے ایک تہائی سے کم حصہ میں ہونا چاہیے ، اس سے زائد مقدار کی وصیت ورثا کی اجازت کے بغیر نافذ العمل نہیں ہوگی۔نیز جب میت نے اپنی طرف  سے ایک  مخصوص کام/ صدقہ وغیرہ کی وصیت کی ہو ، تو جب  ورثا وہ  کام کریں گے  تب وصیت  پوری ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی اس شخص نے اپنی زندگی میں یہ وصیت کی ہو کہ میرے مرنے کے بعد بیل ذبح کرکے فقراء پر کھلا دے ، تو اس کی وصیت تب پوری ہوگی جب ورثا بیل ذبح کر ے ،البتہ مسجد میں پیسے دینے سے اس کو اجر و ثواب ملتا ہے ۔

 

ويستحب أن يوصي الإنسان بدون الثلث سواء كانت الورثة أغنياء أو فقراء، كذا في الهداية والأفضل لمن له مال قليل أن لا يوصي إذا كانت له ورثة والأفضل لمن له مال كثير أن لا يتجاوز عن الثلث فيما لا معصية فيه، كذا في خزانة المفتين.(الفتاوى الهندية ،كتاب الوصايا،الباب الأول في تفسير الوصية ،ج:5،ص:90)

الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ‌ليس ‌للوصي الدفع إلى غيره فتأمل.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الزكوة، ج:2،ص:269)


فتویٰ نمبر : 3755/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں