بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

امام کا مسجد کی بجلی استعمال کرنا


سوال

امام صاحب کے لیے مقتدیوں کی اجازت سے مسجد کی بجلی استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ مسجد کے چندہ دہندہ گان اگر کسی خاص مصرف کےلیے چندہ دیں، تو شرعا اس کو اسی مد میں استعمال کر نا ضروری ہے۔لیکن اگر چندہ دہندہ گان کسی خاص مصرف  کی تعیین کئے بغیر چندہ دیں، تو اس کو عرف کے مطابق مسجد کے مصارف و مصالح میں خرچ کیا  جاسکتا ہے، چونکہ مصالح مسجد میں امام کی رہائش بھی شامل ہے ، اس لیے جس علاقہ کےعرف میں مسجد کے امام کی رہائش گاہ کی بجلی،گیس اور  پانی کے بل  مسجد کے مصالح میں شمار ہوتے ہوں،تو وہاں امام کے لیےبقدر ضرورت مسجد کی بجلی استعمال کرنا جائز ہے۔تاہم امام صاحب  کو چاہئے کہ بےجا اسراف سے کام نہ لے۔

 

وإذا أراد أن يصرف شيئا من ذلك إلى إمام المسجد أو إلى مؤذن المسجد فليس له ذلك إلا إن كان الواقف شرط ذلك في الوقف۔ (الفتاوی الهندية، كتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد، ج:2، ص:413)

وبما ذكرناه علم أنه لو بنى بيتا على سطح المسجد لسكنى الإمام فإنه لا يضر في كونه مسجدا لأنه من المصالح۔(البحرالرائق، كتاب الوقف، ج:5، ص:421)


فتویٰ نمبر : 6356/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں