بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

سجدہ کے اشارے کے وقت ہاتھ زمین پر رکھنا


سوال

اگر کوئی معذور شخص رکوع اور سجدہ پر قادر نہ ہو اوربیٹھ کر نماز پڑھتا ہو،تو کیا سجدہ کے اشارے کے وقت ہاتھوں کو زمین پر رکھے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص معذور ہو اور بیٹھ کر نماز پڑھتا ہو، اور سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو، تو وہ سر کےاشارے سے رکوع اورسجدہ ادا کرے گا، سجدہ کے اشارےکے وقت سر کو رکوع کے اشارے کےمقابلے میں کچھ زیادہ جھکائےگا۔ چونکہ اشارہ سر کا فعل ہےاس لیے بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھنے کی صورت میں ہاتھوں کو زمین پر رکھنا ضروری نہیں ۔

 

قلت أرأيت المريض الذي لا يستطيع أن يقوم ولا يقدر على السجود كيف يصنع قال يومى على فراشه إيماء ويجعل السجود أخفض من الركوع (الأصل للإمام محمد،كتاب الصلاة،باب صلاة المريض في الفريضة،ج:1،ص:217)

(قوله وموميا إن تعذر)أي يصلي موميا وهو قاعد إن تعذر الركوع والسجود لما قدمناه ولأن الطاعة بحسب الطاقة وفي المجتبى وقد كان كيفية الإيماء بالركوع والسجود مشتبها على أنه يكفيه بعض الانحناء أم أقصى ما يمكنه إلى أن ظفرت بحمد الله على الرواية وهو ما ذكره شمس الأئمة الحلواني أن المومي إذا خفض رأسه للركوع شيئا ثم للسجود جاز(البحرالرائق،كتاب الصلاة،باب صلاة المريض،ج:2،ص:122)


فتویٰ نمبر : 10609/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں