بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

زکاۃ ادا کرنے کے بعد مزید مال حاصل ہونے پر زکاۃ


سوال

ایک شخص کے پاس 10 لاکھ روپے ہیں۔اس نے ماہِ شعبان 1445ھ کو ان 10 لاکھ کی زکاۃ ادا کر دی۔اگلے ہی ماہ یعنی رمضان 1445ھ میں اس کے پاس مزید1 لاکھ روپے آ گئے۔جب شعبان 1446ھ آیا، تو اس شخص نے پھر صرف 10 لاکھ کی زکاۃ ادا کی، اور 1 لاکھ کی زکاۃ ادا نہیں کی، کیونکہ اس رقم پرابھی پورا ایک سال نہیں گزرا تھا۔سوال یہ ہے کہ کیا سال 1446ھ کو اس ایک لاکھ کو 10 لاکھ کے ساتھ ملاکر زکاۃ ادا کرنا ضروری تھا(حالانکہ اس ایک لاکھ پر تو سال نہیں گزرا تھا)،یا شعبان 1447ھ کو 10 لاکھ کے ساتھ ملاکر کل 11لاکھ کی زکاۃ ادا کی جائےگی ؟

جواب

اگر کوئی شخص پہلی بار صاحبِ نصاب بن جائے، تو اُس پر زکاۃ تب واجب ہوگی جب اُس مال پر پورا ایک سال گزر جائے۔ لیکن جب ایک بار کوئی شخص صاحبِ نصاب بن جائے، تو پھر سال کے دوران اگر اُسے مزید مال ملے، تو اُس نئے مال پر الگ سے سال گزرنے کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ نئے مال کو پچھلے مال کے ساتھ ملا کر، پورے مال کی زکاۃ ایک ساتھ ادا کی جائے گی ،چاہے نیا مال سال کے شروع میں ملا ہو، درمیان میں، یا زکاۃ ادا کرنے سے کچھ وقت پہلے ہی ملا ہو۔ کیونکہ شریعت میں زکاۃ کے لیے نصاب پر سال کاگزرنا ضروری ہے، بعد میں حاصل ہونے والے مال (مالِ مستفاد)" پر الگ سال کا گزرنا ضروری نہیں۔ لہٰذا جب زکاۃ کا سال مکمل ہو، تو اُس وقت جتنا بھی مال موجود ہو )پرانا ہو یا نیا (سب کو ملا کر زکاۃ ادا کی جائے گی۔

لہذاصورت مسئولہ کے مطابق شعبان1445ھ کے بعد جوایک لاکھ رقم حاصل ہوئی ہے،اس  کی زکاۃ شعبان1446ھ آنے پر دس لاکھ کے ساتھ ملاکر ادا کرنا ضروری تھا،کیونکہ اس ایک لاکھ پر علیحدہ مستقل سال کا گزرنا ضروری نہیں،لہذا اب اس کی زکاۃ کسی مستحق کو ادا کرے۔ اور آئندہ سال 1447ھ کو بھی مقررہ تاریخ پر جتنی مالیت موجود ہواس  کی زکاۃ ادا کی جائے گی۔

 

"ومن كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالًا من جنسه ضمّه إلی ماله و زکّاه سواءکان المستفاد من نمائه أولا و بأي وجه استفاد ضمّه سواء كان بميراث أو هبة أو غير ذلك."(الفتاوى الهندية،كتاب الزكاة،الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها،ج:1،ص:175)


فتویٰ نمبر : 10610/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں