بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

رضاعی بھائی سے نکاح کرنا


سوال

حفصہ اور مروا نے ایک ساتھ سلمٰی کا دودھ پیا، اس وقت حفصہ کی عمر ایک سال تھی، سلمٰی کاایک بیٹا ہےجس کا نام ثناء اللہ ہے ،اب کیا حفصہ کا نکاح ثناء اللہ کے ساتھ ہوسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ جو بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے دودھ پلانے والی کے اصول و فروع اور بہن بھائی اس پر حرام ہوجاتے ہیں۔

صورت مسئولہ میں اگر حفصہ نے سلمٰی  کا دودھ پیا ہو  تو سلمٰی کے بیٹے اور بیٹیاں حفصہ کے رضاعی بہن بھائی ہیں اور رضاعی بھائی کے ساتھ نکاح حرام ہے،لہذا ثناءاللہ کا نکاح حفصہ کے ساتھ از روئے شرع جائز نہیں ۔

 

قال اللہ تعالی:﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ.........إلخ﴾ (سورة النساء:23)

يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع و أصولهما و فروعهما من النسب و الرضاع جميعا.(الفتاوى الهندية،كتاب الرضاع، ج:1،ص:343)


فتویٰ نمبر : 7217/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں