بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

چھاتیوں میں دودھ نہ ہونے کی صورت میں رضاعت کا حکم


سوال

سائرہ نے حفصہ کو دودھ پلانے کی کوشش کی اس وقت زکریا کی عمر چھ سال تھی ،زکریا کی ماں (سائرہ) کی چھاتیوں میں دودھ نہیں تھا محض حفصہ کو رونے سے روکنے اور سلانے کی خاطر ایسا عمل کیا ،تو کیا اس سے رضاعت ثابت ہوتی ہے یا نہیں؟نیز ان دونوں یعنی زکریا اور حفصہ کا نکاح ہوسکتا ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ  محض چھاتی منہ میں دے دینے سے حرمتِ  رضاعت ثابت نہیں ہوتی، جب تک کہ دودھ حلق سے اترنے کا یقین یا غالب گمان نہ ہوجائے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگریہ بات یقینی ہو کہ واقعتًا سائرہ کی چھاتیوں میں اس وقت دودھ نہیں تھا ،تو محض سلانے کی خاطر چھاتی منہ میں دے دینےسے حرمت ثابت نہیں ہوگی، اور زکریا کا نکاح حفصہ کے ساتھ جائز ہوگا۔ اور اگر یقین یا غالب گمان یہ ہوکہ زکریا کی ماں(سائرہ) کا دودھ حفصہ نے پیا ہے یا دودھ کے کچھ قطرے اس کے حلق سے اترے ہیں تو  پھر رضاعت ثابت ہو گی، اور زکریا کا نکاح حفصہ کے ساتھ جائز نہ ہوگا۔

 

‌وفي ‌الفتح:‌لو ‌أدخلت ‌الحلمة ‌في في ‌الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك.ثم قال:والواجب على النساء أن لا يرضعن كل صبي من غير ضرورة،وإذا أرضعن فليحفظن ذلك وليشهرنه ويكتبنه احتياطا.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب النكاح،باب الرضاع،ج:3،ص:212)

(‌قليل ‌الرضاع ‌وكثيره ‌إذا ‌حصل ‌في‌‌ ‌مدة ‌الرضاع تعلق به التحريم) يعني بعد أن يعلم أنه وصل إلى الجوف قال في الينابيع القليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف.(الفتاوى الهندية،كتاب الرضاع،يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب،ج:2:ص:27)


فتویٰ نمبر : 7217/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں