بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

شہرکے حدود سےنکلنے پراحکام سفرکا آغاز


سوال

میں ریاض میں رہتا ہوں، کبھی کبھی کسی کام کے لیےریاض سے باہرچلا جاتا ہوں، توسوال یہ ہےکہ میں سفرکی نماز کہاں سے شروع کروں گا؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی شخص78 کلومیٹرکی مسافت پرسفرکی نیت سے اپنےعلاقےکی حدود سے باہر نکل جائے، تواس پرسفرکے احکام لاگوہوجاتے ہیں، اسی طرح جب وہ واپسی پراپنےعلاقےکی حدود میں دوبارہ داخل ہوجائے، توسفرکا حکم ختم ہوجاتا ہے، کسی علاقے کی حدود کا تعین عرف عام یا سرکاری نظم و نسق کے مطابق ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ میں اگر سائل ریاض میں رہتا ہو، توجب وہ کسی ایسی جگہ کی طرف سفر کے لیے نکلے، جوریاض سے 78 کلومیٹر کی دوری پرواقع ہو، توریاض شہرکے حدود سے نکلنےپرمسافرشمارہوگا۔

 

(من خرج من عمارة موضع إقامته قاصداً مسيرة ثلاثة أيام ولياليها...صلّى الفرض الرباعيّ ركعتين...حتّى يدخل موضع مقامه)إن سار مدة السفر وإلا فيتم بمجرد نية العود.(ردالمحتار علٰ الدرالمختار، كتاب الصلوة، باب صلوة المسافر، ج:2، ص:599-604)


فتویٰ نمبر : 10605/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں