بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اجارہ پردی گئی زمین کی پیداوارمیں عشر


سوال

مالک زمین نے زرعی زمین سالانہ متعین مکئی اورگندم کے بدلےاجارہ دار کو دی ہے، اب اجارہ دارنے مالک زمین کو متعين  مکئی اور گندم کا اجارہ دیاہے، تو مالک زمین گندم میں سےعشرادا کرےگا یا زکوۃ؟

جواب

واضح رہے کہ زمین کی پیداوار میں مالک پرعشر یا نصف عشر کی ادائیگی اس وقت لازم ہوتی ہے، جب زمین کومالک خود کاشت کرے، لیکن اگرمالک زمین کوکسی شخص کو سالانہ متعین اجرت کے بدلے اجارہ پردے دے، توایسی صورت میں چونکہ پیداواراجارہ پرلینے والےکی ملکیت شمارہوتی ہے، اس لیے عشریا نصف عشرکی ادائیگی بھی اسی پرلازم ہوگی، مالک زمین پرنہیں۔

صورت مسؤلہ میں زمین کی پیداوارمیں عشریا نصف عشرکی ادائیگی اجارہ پرلینے والے پرلازم ہوگی، مالک زمین پر نہیں، جبکہ زکوٰۃ کسی پربھی لازم نہیں، کیونکہ زمین کی پیداوارگندم، مکئی وغیرہ میں جب تک خریداری کے وقت تجارت کی نیت نہ ہو، اس وقت تک یہ مالی نامی شمار نہیں ہوتا۔

 

‌وخرج ‌أيضا ‌ما ‌إذا ‌دخل ‌من ‌أرضه حنطة تبلغ قيمتها قيمة نصاب، ونوى أن يمسكها ويبيعها وأمسكها حولا لا تجب فيها الزكاة كما في الميراث. (البحرالرائق، كتاب الزكاة، باب شروط وجوب الزكاة، ج:2، ص:209)

ولو وجد من أرضه حنطة تبلغ قيمتها قيمة نصاب فنوى أن يمسكها و يبيعها، فأمسكها حولا، لا تجب فيها الزكاة. (التاتارخانية، باب زكوة عروض التجارة، ج:2، ص:244)

والعشر ‌على ‌المؤجر ‌كخراج ‌موظف، ‌وقالا: ‌على ‌المستأجر ‌كمستعير ‌مسلم.وفي ‌الحاوي: وبقولهما نأخذ. (الدر المختار،  كتاب الزكوة، باب العشر، ج:3، ص:276)

لو ‌أجر ‌الأرض ‌العشرية فالعشر عليه من الأجرة كما في التتارخانية وعندهما على المستأجر. (ردالمحتار على الدرالمختار، كتاب الزكوة، باب العشر، ج:3، ص:276)


فتویٰ نمبر : 3851/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں