بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

والد کی طرف سے ہبہ کردہ مال میں بہنوں کوحصہ دینا


سوال

ایک شخص نے اپنے بیٹوں میں سے ہر ایک  کو میراث میں دو(2) کروڑ روپے دیے اوربیٹیوں کو کچھ نہیں دیا، ایک بھائی نے اپنے دوکروڑروپے کاروبار میں لگائے ہیں،جو پندرہ مہینےگزرنے کے بعد تین (3)کروڑ ہوئے، اب وہ چاہتا ہے کہ اپنی بہنوں کوان کا حصہ دے دے،تو سوال یہ ہے کہ بہنوں کو ان کا حصہ دوکروڑمیں سے دیا جائے گا یا تین کروڑمیں سےاور کتنا حصہ ان کوملےگا؟

جواب

واضح ہے کہ اگرکوئی شخص اپنی زندگی میں اپنا مال یا جائیداد اپنی رضا مندی سے بعض اولاد میں تقسیم کردے اورہر ایک کواس کے حصے پرقبضہ بھی دے دے، توشرعیاعتبارسے یہ ہبہ کہلاتا ہے، جو موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا گیا ہو) کی ملکیت میں داخل ہوجاتا اور ہبہ کرنے والے کی وفات کے بعد ہبہ سے محروم ورثا کا اس مال میں حق کوئی نہیں ہوتا، البتہ والد اگرکسی معقول وجہ کے بغیربعض اولاد کو ہبہ کرکے بعض کو محروم کرتا ہے، تواس پر گناہ گار ہوگا۔

صورت مسئولہ میں اگرکسی شخص نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں کے درمیان اپنا مال تقسیم کر دیا تھا اورہربیٹے کو اس کے حصے کا قبضہ بھی دے دیا تھا، تواس کی وفات کے بعد اس کی بیٹیوں کا اس مال میں کوئی حق نہیں بنتا، البتہ اگرکوئی بھائی اپنی رضامندی سے بہنوں کو کچھ دینا چاہے تو وہ اپنی مرضی کے مطابق جتنا چاہےدے سکتا ہے، لیکن شرعاً اس پرلازم نہیں۔

 

هي تمليك عين بلا عوض وتصح بإيجاب و قبول وتتم بالقبض الكامل فإن قبض في المجلس بلا اذن صح وبعده لابدمن الإذن.(ملتقى الأبحر على صدر مجمع الأنهر،كتاب الهبة،ج:٣،ص:٤٨٩)

 تنعقد الهبة بالإيجاب والقبول،وتتم بالقبض الكامل؛لأنها من التبرعات والتبرع لايتم إلا بالقبض.(شرح المجلة لسلِم رستم باز،المادة:٨٣٧،ص:٤٦٢)

‌‌لأن ‌للإنسان ‌أن ‌يتصرف ‌في ‌ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك.(دررالحکام،الباب الرابع فی بیان المسائل التی تتعلق بمدۃ الاجارۃ،ج:1،ص:559)

‌رجل ‌وهب ‌في ‌صحته ‌كل ‌المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع. (الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب السادس فى الهبة للصغير، ج:4،ص: 391)


فتویٰ نمبر : 6348/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں